بنگلورو۔یکم اکتوبر(ایس او نیوز) سپریم کورٹ کی طرف سے کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کو سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی جنتادل (ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہاکہ عدالت نے اپنی حدووں سے تجاوز کرتے ہوئے اس بورڈ کے قیام کی ہدایت جاری کی ہے۔آج ودھان سودھا کے صحن میں گاندھی مجسمہ کے روبرو سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا کی بھوک ہڑتال کے دوران اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کمار سوامی نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور مرکزی حکومت کی لاپرواہی کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کرناٹک آخر اس ملک کا حصہ ہے یا نہیں اور اسے ملک کے وفاقی نظام میں باقی رہنا چاہئے یا باہر نکل آنا چاہئے، یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت پڑرہی ہے۔2007کے دوران کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کو زیادتی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کاویری طاس کے حقائق کو قطع نظر کرتے ہوئے ٹریبونل نے غیر دانشمندانہ فیصلہ سنایا تو تملناڈو نے اسی فیصلے کو بنیاد بناکر کرناٹک کا استحصال کرنا شروع کردیا۔ کرناٹک نے ٹریبونل کے فیصلے کا پہلے ہی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔18/ اکتوبر کو اس کی سماعت ہونے جارہی ہے۔ اس کی جانکاری رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے ججوں نے یکطرفہ فیصلہ سنایا ہے۔سپریم کورٹ کے کہتے ہی کاویری نگرانی بورڈ قائم نہیں کیا جاسکتا، ایسے مرحلے میں جبکہ سہ رکنی ڈویژنل بنچ کے روبرو کرناٹک کا معاملہ زیر سماعت ہے، دو رکنی ڈویژنل بنچ کی طرف سے اس طرح کا فیصلہ صادر نہیں کیا جاسکتا۔ کمار سوامی نے کہاکہ سپریم کورٹ میں فی الوقت کاویری مسئلہ کی سماعت جو بنچ کررہی ہے وہ اب کرناٹک کیلئے معتبر نہیں رہی۔ کاویری طاس میں جو بھی آبی ذخائر تعمیر کئے گئے ہیں وہ کرناٹک کے عوام کے پیسوں سے تعمیر کئے گئے ہیں،اس کیلئے مرکزی حکومت کا ایک روپیہ بھی نہیں لیا گیا ہے، کرشنا راجہ ساگر ڈیم کیلئے بنیاد جہاں شیر میسور ٹیپوسلطان نے رکھی تھی، وہیں موجودہ ڈیم کی تعمیر کیلئے میسور کے شاہی خاندان نے اپنے زیورات رہن رکھے ہیں۔ اب کاویری نگرانی بورڈ قائم کرکے ان تمام آبی ذخائر کو اپنے کنٹرول میں کرنے مرکز کوشش کرے گی تو ریاستی حکومت اسے برداشت نہیں کرے گی۔ کمار سوامی نے سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت کو چیلنج کیا کہ جرأت ہے تو حکومت کرناٹک کو برخاست کرکے دکھائیں۔ کرناٹک کے وکیل فالی ایس ناریمن کے متعلق زیادہ بحث سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ناریمن کو ساتھ رکھتے ہوئے حکومت کو آبی تنازعات سے نمٹنے کیلئے ایک اور مضبوط قانونی ٹیم قائم کرنی چاہئے، اس میں وظیفہ یاب ججس بھی شامل رہیں۔ کمار سوامی نے وزیر اعظم مودی کی طرف سے خیر سگالی کیلئے ہی سہی وزیر اعلیٰ سدرامیا کو وملاقات کا وقت نہ دئے جانے کی بھی سخت مذمت کی۔