جمعیۃ علماء کی بروقت مداخلت سے نوجوان دہشت گردی کے الزامات سے بچ گئے
ممبئی ، 21؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )ممبئی سے متصلہ تھانہ شہر کے کاسر واڑی علاقے میں رہائش پذیر چار مسلم نوجوانوں کو گذشتہ شب مقامی پولس نے چند نامعلوم لوگوں کی اطلاع پر حراست میں لے لیاتھا اور انہیں پوچھ تاچھ کے نام پر ۲۴؍ گھنٹے تک پولس چوکی میں بیٹھا کر رکھا ، واقع کی اطلاع مقامی جمعیۃعلماء (ارشدمدنی) کے صدر حافظ عارف انصاری کو ملی تو انہوں نے دیگر ذمہ داران کے ہمرہ کاسر واڑی پولس اسٹیشن پہنچ کر پولس عملہ کو بتایا کہ یہ چاروں نوجوانوں کا تعلق ریاست ہریانہ سے ہے اور وہ یہاں کال سینٹر میں برسرروزگار ہیں اور وہ کسی بھی طرح کی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے لہذا انہیں رہا کیا جائے ۔جمعیۃ علماء کے مطالبہ پر مقامی پولس انتظامیہ نے کہا کہ گذشتہ کل انہیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ چار مشتبہ نوجوان اس علاقے میں کئی دنوں سے رہائش پذیر ہیں اور انہیں شک ہے کہ کہیں وہ علاقے میں دہشت گردانہ کارروائی انجام دینے کی غرض سے تو نہیں رہائش پذیرہیں لہٰذا انہیں تفتیش و تحقیق کی غرض سے پولس اسٹیشن طلب کیا گیا تھا ۔ مقامی جمعیۃ علماء کے صدر عارف انصاری نے کہاکہ چار وں مسلم نوجوانوں عرفان اسرائیل ,عمران محمد خان , عمران ظہور الدین خان , عامر محمد صابر خان کی گرفتاری کی خبرموصول ہوتے ہی مقامی جمعیۃ علماء کے نائب صدر حمید اللہ اجمعین احمد، عبدلمتین شیخ اور دیگر ممبران کاسر واڑی پولس اسٹیشن پہنچ کرمعاملے میں مداخلت کرتے ہوئے مسلم نوجونوں کو فوراً رہا کیئے جانے کا مطالبہ کیا اور واقع کی تفصیلات ریاستی جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے گوش گذار کی ۔ تقریباً ۲۴؍ گھنٹے گذر جانے اور نوجوانوں سے تفصیلی تحقیق کے بعدانہیں رہا کیا گیا جس کے بعد نوجوان تھانہ شہر چھوڑ کر اپنے آبائی ریاست ہریانہ روانہ ہوگئے ۔نوجوانوں نے رہائی کے بعدجمعیۃ علماء مہاراشٹر کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی رکن افضل حسین انصاری و دیگر کا شکریہ ادا کیا ۔ہریانہ کے میوات اور فریدآباد اضلاع سے تعلق رکھنے والے چاروں نوجوانوں کی پولس اسٹیشن سے رہائی کے بعد گلزار اعظمی نے کہا کہ مقامی جمعیۃ علماء کی بروقت مداخلت سے بے قصور نوجوان پولس کے ہتھے چڑھنے سے بچ گئے ورنہ ایسے معاملات میں پولس سیدھے دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا بہانا بنا کر ان پر مقدمہ قائم کردیتی ہے ۔