لکھنؤ، 27؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )قومی ایکتا دل نے اتر پردیش اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں اپنے امکانات تلاش کر رہے جے ڈی یو کے صدر اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی چھوٹی پارٹیوں کی طرف بڑھتی دلچسپی کو ان کی مجبوری بتاتے ہوئے کہا کہ اس صوبے کے سیاسی حالات بہار سے الگ ہیں اور آرجے ڈی نے بھی یہاں ان سے کنارہ کر لیا ہے۔قومی ایکتادل کے صدر افضال انصاری نے آج میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ بہار میں راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ مہاگٹھ بند ھن کے سہارے دوبارہ اقتدار پر قابض نتیش کمار حالیہ مہینوں میں اکیلا چلو کی طرز پر ریلیاں کر کے سیاسی ماحول کا اندازہ لگا چکے ہیں۔انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ اتر پردیش کے حالات بہار سے مختلف ہیں۔مشرقی اتر پردیش میں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے قومی ایکتا دل کے صدر نے کہا کہ نتیش نے کل بی ایس 4کی ریلی میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرکے صوبے میں چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کی شروعات کی ہے۔یہ ان کی مجبوری بھی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ بہار میں اثر دکھانے والا ان کا گلیمر اترپردیش میں کام نہیں آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار میں نتیش کے مہاگٹھ بندھن میں شریک آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد نے اترپردیش میں سماج وادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو کے تئیں ’سمدھی دھرم ‘نبھاتے ہوئے آئندہ اسمبلی الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کرکے نتیش کو ددٹوک پیغام دے دیا ہے۔قومی ایکتا دل کے جے ڈی یو کے ساتھ اتحاد کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر انصاری نے کہا کہ ایسا ممکن ہے، بشرطیکہ مفادات کا کوئی ٹکراؤ نہ ہو۔حال میں ایس پی میں انضمام اور پھر اس فیصلہ کی منسوخی سے دلبرداشتہ انصاری نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کا جو رویہ ہے، اس کی وجہ سے آئندہ اسمبلی انتخابات میں وہ پوروانچل میں اپنی سابقہ کامیابی اب کبھی نہیں دہرا سکے گی۔