نئی دہلی، 21؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )حال ہی میں مرکزی کابینہ میں شامل کئے گئے دلت لیڈر رام داس اٹھاولے نے گجرات میں دلتوں پر حملوں جیسے واقعات نہیں دہرائے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ گائے کا تحفظ ضروری ہے لیکن انسانوں کی حفاظت کون کرے گا؟انہوں نے کہا کہ صرف قانون سے اس بات کی یقینی نہیں بنایا جاسکے گا کہ دلتوں کے خلاف جرائم نہ ہوں ۔انہوں نے مشورہ دیا کہ نسلی شادیوں کو فروغ دینے سے معاشرے میں ذات پات کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔یہاں ایک پروگرام سے الگ انہوں نے نامہ نگاروں سے کہاکہ سبھی کو ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے اور کسی کو واقعات کو سیاسی رنگ نہیں دیناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ صرف قانون سے اس بات کو یقینی نہیں بنایا جا سکے گا کہ دلتوں کے خلاف جرائم نہ ہوں ۔اس لیے لوگوں کو ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، قانون اپنا کام کرے گا،جب تک سماج میں تبدیلی نہیں آئے گی نسلی شادی کو فروغ دینا چاہیے ، جب تک سماج کے دو فریقوں کو ساتھ لانے کی کوشش نہیں کی جاتی ، مجھے لگتا ہے کہ اس وقت تک نسل پرستی ختم نہیں ہوگی ۔گجرات میں ایک مردہ گائے کی کھال اتارے جانے پر دلتوں پر کئے گئے حملے کو لے کر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات نہیں ہونے چاہئیں ۔سماجی انصاف اورتفویض اختیارات کے وزیرمملکت اٹھاولے نے کہاکہ پیغام یہ ہونا چاہیے کہ دلت بھی اس ملک کے شہری ہیں، ان کا بھی احترام کیا جانا چاہیے ، گا ئے کا تحفظ ضروری ہے لیکن انسانوں کی حفاظت کون کرے گا، لوگوں کو اس طرح حملہ کرنے کا حق نہیں ہے۔