میونخ 24جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)جرمنی کی پولیس نے گذشتہ روز میونخ شہر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے بارے میں کہا ہے کہ اس واقعے کاشدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ داعش یا پناہ گزینوں کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔ میونخ کیپولیس چیف ھوپرٹوزانڈرے نے ایک بیان میں بتایا کہ قتل عام کے بعض واقعات کو کچھ لوگ مخبوط الحواس کیسز کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کے حوالے سے اخبارات میں مضامین بھی شائع کیے جاتے ہیں اور کتابیں بھی لکھی جاتی ہیں۔ مگر میونخ کے واقعے کا دہشت گرد تنظیم داعش کیساتھ کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا ہے۔انہوں نے کہا کہ میونخ میں دہشت گردی کے واقعے کے مرتکب کی شناخت ایک ایرانی نژاد جرمن کے طور پر کی گئی ہے اس کا پناہ گزینوں کے ساتھ اس لیے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس کی پیدائش جرمنی کی ہے۔ پولیس نے حملہ آور کے کمرے کی تلاشی کی لیے جہاں سے اس کے داعش سے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ایک سوال کے جواب میں میونخ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ پولیس کو تفتیش کے دوران ناروے میں قتل عام کے مرتکب انتہا پسند انڈریس بیرنگ بریفک کے ساتھ رابطوں کا انکشاف ہوا ہے جس نے اسی طرح کی خونی واردات میں 77 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ادھر جرمنی کے پراسیکیوٹر جنرل ٹومس اشٹائنکراس کوکھ نیایک بیان میں کہا ہے کہ میونخ میں فائرنگ میں ملوث شخص ذہنی ڈیپریشن کا شکار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کی ذہنی بیماری اور ڈیپریشن کے بارے میں اہم معلومات ملی ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس نے اپنا نفسیاتی معائنہ بھی کرایا تھا۔قبل ازیں پولیس چیف نے کہاتھاکہ تفتیش کے دوران یہ بات ثابت نہیں ہوئی کی میونخ حملے میں ایک سے زاید افراد ملوث ہیں۔