ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / مہلک وائرس رانسم ویر کا کرناٹک کے کمپیوٹر وں پر حملہ

مہلک وائرس رانسم ویر کا کرناٹک کے کمپیوٹر وں پر حملہ

Wed, 17 May 2017 03:19:03    S.O. News Service

بنگلورو:16/مئی(ایس او نیوز) دنیا کے 150 سے زائد ممالک کے کمپیوٹر وں پر مہلک حملہ کرنے والے وائرس رانسم ویر کا حملہ کرناٹک کے بہت سارے کمپیوٹروں پر ہوچکا ہے۔ ریاست میں اس وائرس کے پہلے حملے کی اطلاع شیموگہ سے موصول ہوئی۔یہاں کے گوپال گوڈا لے آؤٹ میں موجود ایک کالج کے جنرل منیجر کے لیاب ٹاپ پر یہ حملہ کیاگیاہے۔ حملہ کرکے یہ مانگ کی گئی ہے کہ وائرس سے چھٹکارا پانے کیلئے چھ سو ڈالرس کی رقم بٹ کائن کے ذریعہ ادا کی جائے۔ اس رانسم ویر وائرس کے خوف سے ریاست بھر میں تمام بینکوں نے اپنے اے ٹی ایم  غیر معینہ مدت تک بند کردئے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ملک بھر میں تین لاکھ سے زائد کمپیوٹروں کو اس وائرس کے حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس  وائرس کو ناکام بنانے کیلئے دنیا بھر کے کمپیوٹر ہیاکنگ ماہرین کی مدد لی جارہی ہے، لیکن ان لوگوں کاکہنا ہے کہ اس کا اثر جلد زائل ہونے والا نہیں ہے۔ نوٹ بندی کے دوران چند دنوں کیلئے اے ٹی ایم بند رہے، اب اس کے تقریباً چھ ماہ بعد رانسم ویر وائرس کے حملے نے لوگوں میں اسی طرح کا خوف پیدا کردیا ہے۔بینکوں نے سافٹ ویر اپ ڈیٹ کرنے کا بہانہ بناکر اپنے تمام اے ٹی ایمس پر تالے لگادئے ہیں۔ بنگلور، میسور، دھاورواڑ، داونگیرے، بلگاوی، بلاری، کلبرگی، نیز تقریباًتمام مقامات پر اے ٹی ایم کے باہر نو کیش یا آؤٹ آف سرویس کے بورڈ لگائے جاچکے ہیں۔ شہر کے مصروف تجارتی علاقوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ایک طرف مرکزی حکومت نے اس نوٹ بندی کے ذریعہ معاشی نظام کو بلانقد بنانے کی کوشش کی،جس میں اسے متوقع کامیابی نہ مل پائی، لیکن اس کے بعد سے لوگوں نے بینک اکاؤنٹ کے ذریعہ اے ٹی ایم کے استعمال کو بڑھادیا، لیکن اب اس رانسم ویر کے حملے نے ایک بار پھر لوگوں کو اپنی ہی رقم نکالنے کیلئے مصیبت میں ڈال دیا ہے۔


Share: