علی گڑھ،15/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ(ریٹائرڈ) نے تار بنگلہ میں واقع انٹر ڈسپلنری نینو ٹیکنالوجی سینٹر کی نئی عمارت کا افتتاح پرو وائس چانسلر برگیڈیئر سید احمد علی(ریٹائرڈ)، پروفیسر عالم حسین نقوی، ایڈجنکٹ پروفیسر اور سینٹر کے بانی ڈائرکٹر پروفیسر ابصار احمد کی موجودگی میں کیا۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ(ریٹائرڈ) نے کہا کہ آنے والا وقت نینو ٹیکنالوجی کادور ہے اور انہیں یقین ہے کہ یہ نو قائم شدہ سینٹر پانی کی شفافیت اور سمندری پانی میں نمک کی تعداد کو کم کرنے جیسے مسائل کو حل کرنے کے لئے شاندار وسائل تلاش کرنے میں معاون ہوگا۔انہوں نے مرکز سے وابستہ طلبأ اور اسٹاف اراکین کو ترغیب دی کہ وہ صرف وہ صرف اعلیٰ اشاعتی معیار کو حاصل کرنے والے ریسرچ ڈاٹا کو جمع نہ کریں بلکہ اس ڈاٹا کا پروڈکٹ اور پیٹنٹ کی شکل میں تسلیم کرنے سے حقیقت تک جائزہ لیں۔ وائس چانسلر نے سینٹر کے بانی ڈائرکٹر پروفیسر ابصار احمد کو مبارکباد پیش کی کہ انہوں نے پونہ کی سی ایس آئی آر نیشنل کیمیکل لیبوریٹری جیسی باوقار تنظیم کے ساتھ23سال تک کام کرنے کے بعداے ایم یو کو اپنی خدمات مہیا کرائیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ آئی این سی اپنے یہاں موجود معیاری تعلیمی ریکارڈاورپروفیسرابصاراحمدکے ذریعہ کئے گئے صفِ اول کے نینو ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیقی عمل کے چلتے اعلیٰ معیاری سہولیات مہیا کرائے گا۔پرو وائس چانسلر برگیڈیئر سید احمد علی(ریٹائرڈ) نے سینٹر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سینٹر کا قیام ایک خواب کے حقیقت میں تبدیل ہونے کے مترادف ہے جس کی دیکھ بھال نینو ٹیکنالوجی سے وابستہ باوقار دانشوروں کے ہاتھوں میں ہے۔ فرانسیسی مصنف جولیس ورنے کے ناول”اراؤنڈ دا ورلڈ ان اینٹری ڈیز“ کا حوالہ دیتے ہوئے پرو وائس چانسلر نے کہا کہ نینو ٹیکنالوجی کے ساتھ ہر چیز ممکن ہے اور مستقبل میں اس کے استعمال سے دل کا علاج، مائیکو روبوٹ کے ہاتھوں ممکن ہوسکے گا۔انہوں نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ جلد ہی پروفیسر ابصار کے ذریعہ مجوزہ پر امید ریسرچ پروجیکٹ کے سبب سینٹر مالی وسائل کو جمع کرنے میں خود کفیل ثابت ہوگا۔سینٹر کے ایڈجنکٹ پروفیسر عالم حسین نقوی نے کہا کہ اے ایم یو کے بانی سرسید احمد خاں کا یہ ہدف تھا کہ یہ ادارہ علم کے ہر نئے اور عجیب میدانوں کو تلاش کرے اور یہ دن اے ایم یو کی تاریخ میں یادگار رہے گا اور انہیں مکمل یقین ہے کہ یہ سینٹر میڈیسن، انجینئرنگ، الیکٹرونکس، کیمیا، فزکس اور حیوانیات جیسے میدانوں کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرے گا۔ انہوں نے پروفیسر ابصاراحمد کو سائنس کی دنیا میں ان کی خدمات، باوقار کاموں اور قابلِ ذکر اعزازات کے حصول کے لئے مبارکباد پیش کی۔ پروفیسر نقوی نے فیکلٹی اراکین اور مختلف میدانوں کے طلبأ کو ترغیب دلائی کہ وہ آئی این سی میں دستیاب وسائل کا پورا استعمال کریں اور معاون تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ سینٹر کے بانی ڈائرکٹر پروفیسر ابصار احمد نے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور ایکزیکیوٹو کاؤنسل کے اراکین کاان کے تعاون کے لئے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ افتتاحی تقریب ہر کسی کے لئے ایک نیا آغاز ہے۔ پروفیسر احمد نے بتایا کہ ان کا تحقیقی عمل مختلف کیمیائی تخلیقات اور نینو پارٹیکلس کے گرین فیبرییکیشن پر مرکوز تھاجو کہ پانی کے پھیلاؤ، پروٹین کیپ، استحکام اور ٹوکسک کے استعمال پر مرکوز ہوگا۔ پروفیسر احمد نے بتایا کہ ان کا آئندہ اقدام صحت کی دیکھ بھال، زرعی میدان، توانائی اور ماحولیات، پانی کی شفافیت اور سمندری پانی میں نمک کی تعداد کو کم کرنے وغیرہ کے میدانوں میں نینو پارٹیکلس کے استعمال پر مرکوز ہوگا۔