ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مبلغ اسلام مولانا کلیم صدیقی اور عمر گوتم سمیت 14 افراد تبدیلی مذہب کے کیس میں قصور وار قرار؛ بدھ کو سنائی جائے گی سزا

مبلغ اسلام مولانا کلیم صدیقی اور عمر گوتم سمیت 14 افراد تبدیلی مذہب کے کیس میں قصور وار قرار؛ بدھ کو سنائی جائے گی سزا

Tue, 10 Sep 2024 22:59:48    S.O. News Service

لکھنو 10/ستمبر (ایس او نیوز)  تبدیلی مذہب کے الزام میں قریب ڈیڑھ سال تک جیل میں بند  ہوکر ضمانت  پر رہا ہونے والےمولانا کلیم صدیقی    اور دیگر 13 لوگوں کو  این آئی اے۔اے ٹی ایس عدالت  نے قصور وار قرار دیا ہے اور کل بدھ کو انہیں سزا سنائے جانے کا اعلان کیا ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  این آئی اے اے ٹی ایس کورٹ کے جج وویکانند شرن ترپاٹھی کی عدالت  نے  تمام  14 لوگوں  کو دفعہ  417، 120 بی، 153 بی، 295 اے، 121 اے، 123 اور سیکشن 3، 4، اور 5 کے تحت مجرم پایا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ  تبدیلیٔ مذہب مقدمہ میں لکھنؤ سیشن عدالت  مولانا کلیم صدیقی سمیت تمام ملزمین کو  کل  بدھ کو سزا کا تعین کرے گی۔ مولانا سمیت تمام ملزمین کو واپس  تحویل میں لے کر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ  جن دفعات کے تحت انہیں قصور پار پایا گیا ہے،  اس کے مطابق ملزمین کو زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا اور کم سے کم دس سال کی سزا ہوسکتی ہے۔  پتہ چلا ہے کہ عدالت فریقین کے وکلاء کے دلائل کی سماعت کے بعد  کل بدھ کو سزا کا تعین کرے گی۔

مولانا کلیم صدیقی، ملک کی  ایک معروف شخصیت ہیں، جو مظفر نگر میں شاہ ولی اللہ ٹرسٹ چلاتے ہیں ، مولانا گلوبل پیس فاؤنڈیشن کے بھی  چیئرمین  ہیں۔ اتر پردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے انہیں میرٹھ سے  تین افراد سمیت  ستمبر 2021 کوگرفتار کیا تھا۔ قریب ڈیڑھ سال جیل میں قید رہنے کے بعد مولانا 3 مئی 2023 کو ضمانت پر جیل سے رہا ہوئے تھے۔ اب مولانا کو واپس جیل بھیج دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ مولانا کو گرفتار کرتے وقت اے ٹی ایس نے ان پر الزام لگایا تھا کہ مولانا صدیقی مذہب تبدیل کرانے اور  بیرونی ممالک سے اس کام کے لئے  فنڈ حاصل کرنے میں ملوث ہیں۔  خیال رہے کہ ان کی گرفتاری سے قبل   اسی طرح کے الزامات کے تحت عمر گوتم اور مفتی قاضی سمیت دیگر کو بھی  گرفتار کیا گیا تھا۔

پتہ چلا ہے کہ اسی الزام کا سامنا کرنے والے ایک اور ملزم، ادریس قریشی، اپنی سزا میں تاخیر کرتے ہوئے، ہائی کورٹ سے اسٹے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ تاہم، مولانا گوتم اور مولانا صدیقی سمیت باقی 14 کو عدالت کے فیصلے کے بعد حراست میں لے کر جیل بھیج دیا گیا۔  لکھنو سیشن کورٹ کے اس  غیر متوقع فیصلے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ  مولانا  اور ان کے رفقاء اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرسکتے ہیں اور ہائی کورٹ میں ضمانت کی عرضی بھی داخل کرسکتے ہیں۔


Share: