نئی دہلی، 21؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )لوک سبھا میں آج سبھی جماعتوں کے اراکین نے وزیر اعظم گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی )میں ممبران پارلیمنٹ کی شرکت اور بات چیت نہیں کئے جانے کا مسئلہ اٹھایا۔حکومت نے ممبران پارلیمنٹ کو بھروسہ دلایا کہ وہ ارکان پارلیمنٹ کی شرکت سمیت تمام دفعات کے نفا ذ کو یقینی بنائے گی۔پی ایم جی ایس وائی پر مختلف جماعتوں کے خدشات پر لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر بتانا چاہتی ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کو اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن اس سلسلے میں ویجلینس کمیٹی ہے، ممبران پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ ہر تین مہینے میں ویجلینس کمیٹی کی میٹنگ بلائے، ہر ممبر پارلیمنٹ کو یہ میٹنگ بلانی چاہیے جس میں افسران بھی شامل ہوتے ہیں، اس طریقے کا برابر استعمال کریں۔لوک سبھا میں آج ہریش مینا، پریم سنگھ چند وماجرا، حنا گاوت نے اس موضوع پر سوالات پوچھا اور وزیر اعظم گرام سڑک یوجنا کے معیار، دیکھ بھال، بروقت تعمیر کے ساتھ ساتھ اراکین پارلیمنٹ کے کردار کا مسئلہ اٹھایا۔اس کی سبھی جماعتوں کے ارا کین نے حمایت کی۔کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری، سشمیتا دیو، راشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش نارائن یادو، این سی پی کی سپریا سولے، ترنمول کانگریس اور بائیں محاذ کے ممبران پارلیمنٹ نے پی ایم جی ایس وائی یوجنا میں ارا کین پارلیمنٹ کے کردار کو یقینی بنائے جانے کا مطالبہ کیا۔کچھ اراکین نے اس موضوع پر ایوان میں بحث کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔دیہی ترقیات کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے کہاکہ میں بھی ایک ایم پی ہوں اور میں ممبرا ن پارلیمنٹ کی پریشانی کو سمجھتا ہوں۔پی ایم جی ایس وائی میں ممبران پارلیمنٹ کے کردار کی واضح تجویز ہے۔اور اگر اس تجویز پر ریاستوں میں مناسب طریقے سے عمل نہیں ہو رہا ہے تو مرکزی حکومت اس کو یقینی بنائے گی۔