چنتامنی:18 /اکتوبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)ریاست بھر میں برسر اقتدار کانگریس حکومت عوامی منصوبوں کے نفاذ میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے اور قحط سالی سے بھی ٹھیک طریقے سے نمٹنا نہیں جارہا ہے یہ الزام چنتامنی حلقہ کے رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے لگائی ۔انہوں نے آج تعلقہ کے مونگنہلی گاؤں میں 9لاکھ لاگت سے آنگن واڑی اسکول عمارت کے تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھنےکے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلقہ میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے باغبانی کی فصلیں سوکھ چکی ہیں مویشوں کیلئے چارہ کی قلت ہے حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پرتعلقہ کو قحط زدہ علاقوں کی فہرست میں شامل کرے اور قحط سالی شکار علاقوں میں فوری کام شروع کرے ۔کرشناریڈی نے کہا کہ فصلوں کی تباہی کا سامنا کررہے کسانوں میں پھنسے کسانوں کو سبسڈی فراہم کرے کرشناریڈی نے اور کہا کہ چنتامنی حلقے کے جتنے بھی تالابیں ہے ان کی ترقی کیلئے فنڈ دینے حکمرانی پارٹی پر دباؤ ڈالونگا تالابوں میں پانی کاذخیرہ اکھٹاہونے سے اطراف دیہی علاقوں کے عوام کو بہت کچھ سہولت فراہم ہوسکتی ہے اس سے کسانوں جانوروں کو بھی کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔تالابوں کی ترقی کے لئے گرام پنچایتی کے افسران کوتاہی کریں تو ان گرام پنچایتی افسروں کا نام فوراََ بلاک لسٹ میں شامل کرکہ قانونی کارروائی کی جائیگی انہوں نے دیہی علاقوں کے عوام سے مخاطب ہوکر کہا کہ دیہاتوں میں پانی کے ذخیرے کے غرض سے جگہ جگہ کنویں کی کھدائی کرتے ہوئے پانی کو اکھٹا کرکے ضرورت پر استعمال کریں برسات نہ ہونے کہ بناپر پانی کی قلت آن پڑی ہے اسکی اہم وجہ یہ ہے کہ جنگلی علاقوں میں پیڑپودوں کو کاٹتے ہوئے ماحولیات میں خلل پیدا کیا جارہا ہے ہم جتنا پیڑ پودوں کو اُگانے میں اضافہ کریں گے اتنا ہی ماحول پاک وصاف ہوگااور برسات برابر ہوتی رہے گی اور عام زندگی کے گزارے کیلئے اور کسانوں کی فصلوں کیلئے پانی بیحد مفید ہے پانی کے بنا کسی بھی کسان کے فصلوں کو فائدہ نہیں پہنچے گا اسلئے پر فرد کو حسب ضرورت ہی استعمال کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں قدرتی ذخیرے موجود ہیں اسکا صحیح انداز میں استعمال نہیں ہورہا ہے جس کی بدولت ہر موقعہ پر پانی کی قلت محسوس ہوتی ہے اور موسم گرما،موسم برسات،موسم سرما،میں بھی پانی کم ہونے کا احساس ہوتا ہے مگر موسم گرما کے دوران اسکا شدت کے ساتھ احساس ہوتا ہے اگر ہم پانی کو اسراف ہونے اور بیکار بہنے سے پہلے اسکے اکھٹا کرنے کی سمت میں کام کریں گے تو آنے والے دنوں میں پانی کی قلت در پیش نہیں ہوگی اکثر دیہاتوں میں آبپاشی اور کھیتی باڑی کے علاوہ نالوں اور کنوں پر ناجائز انداز میں قبضہ کرلیا گیا ہے جسکی بنا پر دیہاتوں میں پانی کا اکھٹا کئے جانے کی صورتیں نہیں ہیں اسلئے ہر دیہات میں کنویں کھدائی کرکے پانی کو ذخیرہ کیاجائیگا تو یقیناًپانی کی کوئی بھی پریشانی پیش نہیں آئے گی۔اس موقع پر رویندہ گوڈا لکشمی نرسمہ تعلقہ پنچایتی صدر شنتما سمیت کئی احباب موجود رہے۔