نئی دہلی، یکم اکتوبر(آئی این ایس انڈیا؍ایس او نیوز)دہلی کی ایک عدالت 6 /اکتوبر کو اس بات پر فیصلہ کرے گی کیا مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کو طلب کیا جائے۔عدالت میں ان کے خلاف اس شکایت پر سماعت ہو رہی ہے جس میں ان کی طرف سے الیکشن کمیشن کو دئیے گئے حلف نامے میں اپنی تعلیمی قابلیت کے بارے میں مبینہ طور پر غلط معلومات دینے کا الزام ہے۔میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ہروندر سنگھ کو آج اس مسئلے پر اپنا فیصلہ سنانا تھا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر اسے ٹال دیا کہ فیصلہ تیار نہیں ہے۔عدالت نے ماضی میں شکایت کنندہ اور فری لانس رائٹر احمر خان کی دلیلوں اور اسمرتی ایرانی کی تعلیمی ڈگری کے بارے میں الیکشن کمیشن اور دہلی یونیورسٹی کی طرف سے دی گئی رپورٹ پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔اس سے پہلے الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے ایک افسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ پرچہ نامزدگی داخل کرتے وقت ایرانی نے اپنی تعلیمی قابلیت کے سلسلے میں جو دستاویزات داخل کئے تھے، ان کا پتہ نہیں چل پا رہا ہے۔بہر حال اس سے متعلق معلومات اس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔عدالت کے سابقہ فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی نے بتایا کہ 2004کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے حلف نامے میں 1996کے بی اے کورس کا مبینہ طور پر جو ذکر کیا تھا، اس کے دستاویزات ابھی تک نہیں ملے ہیں۔