کراچی21جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے خلاف چند ہفتوں کے اندرقانون سازی کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ اقدام سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کے قتل کے تناظر میں لیاجارہاہے۔غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون سازی بہت عرصے سے التوا کا شکار ہے۔ مریم نواز کے مطابق قانون سازی کے لیے بل جمعرات کے روز ایک پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ حکومت کو ایسے قتل کے خلاف قانون پاس کرنے میں بے پناہ دباؤ کا سامنا ہے، جو بقول ایسا اقدام کرنے والوں کے، وہ اپنے خاندان کی عزت کا دفاع کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون سازی کے بعد ایسے افراد کے لیے خود کو قانون اور ضابطے کی کارروائی سے بچانے کا راستہ نہیں نکل سکے گا۔ سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ، جنہیں اکثر پاکستان کی کم کارداشیان بھی کہاجاتاتھا، کے بھائی نے کہا تھا کہ اسے اپنی بہن کی سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی فحش تصاویر اور ویڈیوز پر بہت غصہ تھا۔اس لیے اس نے اس قتل کا ارتکاب کیا۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال قریب پانچ سو خواتین غیرت یاعزت کے نام پر خاندان کے افراد کے ہاتھوں قتل کر دی جاتی ہیں۔ قتل کرنے کی وجوہات میں گھر سے بھاگ جانا، کسی مردسے تعلق قائم کرنا یا ایسی قدامت پسندانہ اقدار سے بغاوت یا انحراف کرنا شامل ہیں جو ایسے معاشرے میں عورت کی شرم وحیا کی نگران سمجھی جاتی ہیں۔ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسئلے پر قانون سازی اتفاق رائے سے کرنا چاہتی تھی اوراس حوالے سے پارلیمنٹ میں مذہبی جماعتوں سے مذاکرات بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک انٹرویو میں بتایا،ہم نے قانونی مسودے کو مذاکرات کی روشنی میں حتمی شکل دی ہے۔ اس مسودے کو اکیس جولائی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کمیٹی کے سامنے حتمی غور وخوض اور منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔مریم نواز شریف کے مطابق اگر پارلیمانی کمیٹی یہ مسودہ منظور کر لیتی ہے تو پھر اسے دو ہفتوں کے اندر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ پاکستانی پارلیمان کی دو بڑی مذہبی جماعتوں میں سے ایک ، جماعت اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت بل کی مخالفت نہیں کرے گی۔ پاکستان کی دوسری بڑی مذہبی جماعت، جمیعت علمائے اسلام سے اس بارے میں رائے نہیں لی جا سکی تاہم اس کی پارلیمنٹ میں نشستیں محدود ہیں۔ یاد رہے کہ دونوں مذہبی جماعتوں نے خواتین کوبااختیاربنانے کے لیے قانون سازی کی روایتی طور پر مخالفت کی ہے۔ ایک سینئر سرکاری عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ اب تمام اہم سیاسی جماعتیں اس قانونی مسودے کی حمایت کر رہی ہیں اور امید ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاس کر دیا جائے گا۔