نئی دہلی:9/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی وزارت داخلہ نے کہاہے کہ غیر قانونی طور پر رہ رہے40ہزارروہنگیا ملک سے باہرنکالے جائیں گے۔روہنگیا مسلمان ملک میں مختلف جگہوں پر رہ رہے ہیں اور اب مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ذرائع بتاتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ہندوستان میں غیر قانونی طور پر میانمار سے آئے روہنگیا کو مسلسل عمل کے تحت آہستہ آہستہ واپس بھیجاجائے گا۔معلومات کے مطابق زیادہ تر روہنگیا مسلمان اس وقت جموں کشمیر، حیدرآباد، ہریانہ، اترپردیش، دہلی قومی دارالحکومت علاقہ اور راجستھان میں رہتے ہیں۔وزارت داخلہ کے پاس دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وقت اقوام متحدہ کے پاس ہندوستان میں رہ رہے14000سے زیادہ روہنگیا کے بارے میں معلومات موجود ہے،اگرچہ جو دوسری اطلاعات وزارت داخلہ کے پاس موجود ہیں، ان کے مطابق تقریباََ40ہزارروہنگیا غیر قانونی طور پرہندوستان میں رہ رہے ہیں۔آپ کو بتا دیں کہ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کا پتہ لگانے اور انہیں واپس بھیج دینا ایک مسلسل عمل ہے، مرکزی حکومت یعنی وزارت داخلہ غیر ملکی ایکٹ 1946 کی دفعہ (3،2)کے تحت غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کا پتہ لگانے اور انہیں واپس بھیجنے کے لئے ملے حقوق کی بنیاد پر ان کے بھیجنے کا عمل کو شروع کر رہا ہے۔ریاستی حکومتوں اور وہاں کی انتظامیہ کو بھی روہنگیا سمیت غیر قانونی طور پر رہ رہے غیر ملکی شہریوں کی شناخت ان کو روکنے اور انہیں وہ واپس بھیجنے کی طاقتیں دی گئی ہیں۔ہندوستان میں سب سے زیادہ روہنگیا مسلم جموں میں آباد ہیں،وہاں تقریباََ10000روہنگیا مسلم رہتے ہیں۔دراصل میانمار حکومت نے 1982میں قومیت قانون بنایا تھا جس میں روہنگیا مسلمانوں کی شہری حیثیت کو ختم کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ہی میانمار حکومت روہنگیامسلمانوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرتی آ رہی ہے،اگرچہ اس پورے تنازعہ کی جڑ تقریباََ100سال پرانی ہے، لیکن 2012میں میانمار کے راکھی ریاست میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات نے اس میں ہوا دینے کا کام کیا۔شمالی راکھن میں روہنگیا مسلمانوں اور بدھ مت کے لوگوں کے درمیان ہوئے اس فساد میں 50سے زیادہ مسلم اور تقریبا 30بدھ مت لوگ مارے گئے تھے۔اسی کڑی میں بہت سے روہنگیا مسلمان ہندوستان میں بھی گھس آئے تھے اور اب مرکزی حکومت ان پر ایکشن لینے کے موڈ میں ہے۔روہنگیامسلمان اور میانمار کے اکثریتی بودھ کمیونٹی کے درمیان تنازعہ 1948میں میانمار کے آزاد ہونے کے بعد سے ہی چلا آ رہا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ راکھی ریاست میں جسے اراکان کے نام سے بھی جاتا ہے، 16ویں صدی سے ہی مسلمان رہتے ہیں،یہ وہ دور تھا جب میانمار میں برطانوی حکومت تھی،1826میں جب پہلی اینگلو برما جنگ ختم ہوا تو اس کے بعد اراکان پر برطانوی راج قائم ہو گیا۔اس دوران برٹش حکمرانوں نے بنگلہ دیش سے مزدوروں کو اراکان لانا شروع کیا۔اس طرح میانمار کے راکھی میں پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے آنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی گئی۔بنگلہ دیش سے جاکر راکھی میں آباد یہ وہی لوگ تھے جنہیں آج روہنگیا مسلمانوں کے طور پر جانا جاتا ہے۔روہنگیا کی تعداد بڑھتی دیکھ میانمار کے جنرل نے جیت کی حکومت نے 1982میں برما کا قومی قانون نافذ کر دیا۔اس قانون کے تحت روہنگیا مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی گئی۔