سری نگر ، 31؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے پی ڈی پی - بی جے پی اتحاد کی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی موت کو لے کر ابھی بھی الجھن کی حالت ہے، جبکہ عوام اب بھی اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔عمر نے ٹوئٹ کیاکہ بی جے پی-پی ڈی پی کے نائب وزیر اعلی نرمل سنگھ نے برہانی وانی کے انکاؤنٹر اور اس کی موت کوحادثہ قرار دیا ہے۔اس حادثے کے بعد 50لوگوں کی موت ہو گئی اور بے شمار زخمی ہیں۔ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لکھاکہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے تصادم میں شامل جوانوں کو انعام سے نوازا ہے جبکہ نائب وزیر اعلیٰ اس کو یہ حادثہ بتا رہے ہیں۔ایک طرف وانی کی موت کو لے کر الجھن کی حالت بنی ہوئی ہے اور دوسری طرف لوگ اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔کل سنگھ نے کہا تھا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے حکومت کو بتایا ہے کہ انہیں دہشت گرد کی شناخت کی اطلاع نہیں تھی ،اس لیے اس حادثے کے کیا نتائج ہوں گے اس کے بارے میں اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا۔نائب وزیر اعلیٰ نے صحافیوں کوبتایاکہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے ہمیں بتایا ہے کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ دہشت گرد کون ہے، یہ ایک حادثہ تھا۔جب کارروائی ہو رہی تھی تو احتیاط برتی گئی تھی لیکن ہمیں نہیں پتہ تھا کہ وہ یہ شکل اختیار کر لے گا ، اگر پتہ ہوتا تو اسی طرح سے تیاری کی جاتی۔جب سنگھ کے حادثے والے تبصرہ پر تنازعہ ہوا ، تو انہوں نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ایسا کبھی نہیں کہاہے ۔ایک صحافی نے کہا تھا کہ برہان وانی کی موت کے بعد پید اہوئی صورت حال کو سنبھالنے میں حکومت ناکام رہی ہے۔میں اسے سمجھا رہا تھا کہ یہ عام دہشت گردی مخالف قدم تھا ، لیکن اگر سیکورٹی فورسز کو پتہ ہوتا کہ ایسا ہونے والا ہے تو احتیاط برتی جاتی، لیکن انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ انہیں یہ پتہ نہیں تھا، میں یہی بات سمجھا رہا تھا۔سنگھ کے تبصرہ کے بعد عمر نے ٹوئٹ کیاکہ اچھا تو برہان وانی کوجان بوجھ کر ہلاک کیا گیا تھا ؟۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس واقعہ پر کتنے الگ الگ بیانات دئیے گئے ہیں۔