ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / عدالت نے عمر قید سزایافتہ مجرم کو سولہ سال بعد کر دیارہا۔کہا :آنکھ کے بدلے آنکھ کا اصول لاگو نہیں ہو سکتا

عدالت نے عمر قید سزایافتہ مجرم کو سولہ سال بعد کر دیارہا۔کہا :آنکھ کے بدلے آنکھ کا اصول لاگو نہیں ہو سکتا

Sun, 08 Jan 2017 19:02:32    S.O. News Service

نئی دہلی، 8 ؍جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )د ہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ایک صحت مند معاشرے میں قصورواروں کو سزا دینے کے لیے ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ اور’ دانت کے بدلے دانت‘کا اصول کسوٹی نہیں ہو سکتا۔عدالت نے قتل کے دو مقدمات میں 16سال سے زیادہ قید کی سزا کاٹ چکے دہلی یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم کو رہا کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔دہلی یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم جتندر کو قتل کے ایک معاملے میں ایک نچلی عدالت نے 30سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ایک اور قتل کے معاملے میں عدالت نے اسے عمرقید کی سزا سنائی تھی۔نچلی عدالت نے واضح کیا تھا کہ مجرم ( 42)کو ملی عمر قید کی سزا 30سال کی قید پوری ہونے کے بعد شروع ہوگی۔تناسب کے اصول کے تناظر میں جسٹس جی ایس سستانی اور جسٹس سنگیتا ڈھینگرا سہگل کی بنچ نے کہا کہ اس کا ہندوستانی جرم قانون کے تحت سزا سنانے کی پالیسی میں بہت استعمال ہوتا ہے۔عدالت نے کہاکہ ہمارا خیال ہے کہ صحت مند سماج ہونے کے ناطے ’دانت کے بدلے دانت، آنکھ کے بدلے آنکھ کا معیار نہیں ہونا چاہیے اور عمر قید کے تناظر میں کسی طرح کی جلدباز ی میں کام کرنے کا سوال نہیں اٹھتا بلکہ ہمارا قانون بتاتا ہے کہ ہماری عدالتیں اس سمت میں مکمل تیاری سے کام نہیں کرتیں اور اس نقطہ نظر سے یہ ضروری ہے کہ جرم کی سنگینی اور سزا کے درمیان مناسب توازن بنایا جائے۔ہائی کورٹ نے مجرم کو کل 16سال اور دس ماہ کی سزا سناتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔یہ مدت مجرم جیل میں پہلے ہی کاٹ چکا ہے اس لیے عدالت نے اسے رہا کرنے کا حکم دیا۔

 

Share: