نئی دہلی ، 11/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) آنند بھدوریا نے لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر جاری بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو کئی معاملات پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت بین الاقوامی مسائل پر امریکہ کے سامنے جھکنے کا تاثر دے رہی ہے۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض رہنما عالمی دباؤ کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں، اور اسی مثال کے ذریعے انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے کی کوشش کی۔
آنند بھدوریا نے لوک سبھا میں کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا، انھوں نے شہادت کو گلے لگانا قبول کیا۔ دوسری طرف مودی حکومت نے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے، کمپرومائزڈ ہو گئے۔ بھدوریا نے ایوان میں بہ آواز بلند کہا کہ مرکزی حکومت کو عوام کے سامنے یہ سچائی بتانی چاہیے کہ غزہ-اسرائیل جنگ کے بعد دنیا کے کون سے ملک کا وزیر اعظم اسرائیل دورہ پر گیا۔ انھوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ کس کے مشورہ پر پی ایم مودی نے جنگ کے دروازے پر کھڑے ملک کا دورہ کیا۔
بھدوریا نے ایوان زیریں میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو میں سلام کرتا ہوں۔ انھوں نے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا اور شہادت کو گلے لگایا۔ آپ (مودی حکومت) نے تو امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی کو جنگ کے دروازے پر کھڑے اسرائیل کا دورہ پر بھیج کر ان کی سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اسرائیل بھیج کر وزیر اعظم کی جان کو جوکھم میں ڈالا گیا۔
سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ان کی پارٹی یا انھیں کوئی شکایت نہیں ہے، اور اسپیکر نے سماجوادی پارٹی چیف اکھلیش یادو کو ایوان میں بولنے کے لیے پورا وقت دیا ہے، لیکن بی جے پی کے اعمال کی وجہ سے اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ضرورت پڑی۔ انھوں نے کہا کہ اوم برلا بذات خود ٹھیک ہیں، لیکن ان پر برسراقتدار طبقہ کا زبردست دباؤ ہے، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ٹھیک طرح نہیں چل رہی۔