ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شملہ مسجد تنازع: سنجولی میں کشیدگی کے باعث پولیس کی سخت نگرانی، دفعہ 163 نافذ

شملہ مسجد تنازع: سنجولی میں کشیدگی کے باعث پولیس کی سخت نگرانی، دفعہ 163 نافذ

Wed, 11 Sep 2024 13:08:56    S.O. News Service

شملہ،11/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ کے سنجولی علاقے میں واقع مسجد کی تعمیر کے خلاف بدھ کو مخصوص تنظیموں کی جانب سے ممکنہ بڑے پیمانے پر مخالفت کے پیش نظر پولیس صبح سے ہی سخت نگرانی میں رہی۔ انتظامیہ نے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے علاقے میں دفعہ 163 نافذ کر دی ہے، جو رات بھر جاری رہے گی۔ اس دوران کسی بھی قسم کی مخالفت، مظاہرہ یا جلوس نکالنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے سنجولی پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اور مسجد کے مقام کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔

غور طلب رہے کہ مخصوص تنظیموں اور مقامی لوگوں نے 11 بجے سے سنجولی میں پُرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد چپے چپے پر پولیس جوان تعینات کر دیے گئے۔ حالات پر قابو رکھنے کے لیے ضلع پولیس نے ریاست کی سبھی چھ بٹالین تعینات کر دی ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں چیکنگ شروع کرکے سنجولی کی طرف جانے والے سبھی راستوں پر پولیس کے جوان تعینات کر دیے ہیں۔

مظاہرین کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سبھی داخلی دروازوں پر گزشتہ رات سے ہی پولیس کے جوان پہرا دے رہے ہیں۔ گاڑیوں میں آنے جانے والوں کی چیکنگ کی جا رہی ہے۔ شملہ کے ڈپٹی کمشنر انوپم نے بتایا کہ سنجولی علاقے میں دفعہ 163 نافذ ہے اور بغیر اجازت کے دھرنا-مظاہرہ کرنے والوں پر کارروائی کی جائے گی۔ یہاں 5 یا اس سے زیادہ لوگوں کے ایک مقام پر جمع ہرنے پر مکمل پابندی ہے۔ حالانکہ اس دوران علاقے میں عام زندگی پوری طرح سے بحال رہے گی اور اسکولوں سمیت تمام سرکاری و نجی دفاتر اور بازار کھلیں رہیں گے۔

واضح ہو کہ مسجد تنازعہ کے معاملے پر مخصوص تنظیموں کی ضلع انتظامیہ کے ساتھ منگل کی دیر رات ہوئی بات چیت ناکام ثابت ہوئی تھی جس کے بعد ان تنظیموں نے سنجولی بازار میں مظاہرہ کی بات کہی تھی۔ ہماچل دیو بھومی سنگھرش سمیتی کے سنیل چوہان نے کہا کہ ہم پُرامن مظاہرہ کرنے جا رہے ہیں، ہمارا مقصد سماج کو بیدار کرنا ہے۔

سنجولی مسجد کا معاملہ عدالت میں زیر غور ہے اور دونوں فریقین کی جانب سے دلائل پیش کی گئی ہیں۔ ہندو فریقی کا کہنا ہے کہ مسجد سرکاری زمین پر غیر قانونی طریقہ سے تعمیر کی گئی ہے۔ جبکہ مسلم فریقی کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے عدالت میں کہا گیا ہے کہ یہ مسجد عرصہ دراز سے قائم ہے اور بورڈ میں رجسٹرڈ بھی ہے۔ تاہم بالائی منزلوں کے بارے میں بورڈ کا کہنا تھا کہ وہ مسئلہ مسجد کمیٹی اور بلدیہ کے بیچ کا ہے۔ سابقہ سماعت پر عدالت نے بلدیہ کے جے ای (جونیئر انجینئر) کو حکم دیا کہ وہ موقع پر تعمیرات سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ معاملہ کی آئندہ سماعت 5 اکتوبر کو ہوگی۔


Share: