ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شترو املاک قانون میں ترمیم والے بل پر حکومت کو اپوزیشن کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے 

شترو املاک قانون میں ترمیم والے بل پر حکومت کو اپوزیشن کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے 

Sun, 31 Jul 2016 19:47:31    S.O. News Service

نئی دہلی، 31؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )شترو جائیداد ایکٹ میں ترمیم والے بل کو منظور کرنے میں حکومت کو رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا جہاں کانگریس، سماجوادی پارٹی، جے ڈی یو اور سی پی آئی جیسی اپوزیشن پارٹیاں اس اہم دفعات کی مخالفت کر رہی ہیں۔شترو جائیداد قانون 1968میں ترمیم کے ساتھ شترو پراپرٹی ترمیمی اورآئینی بل لاگو کرنے کی تیاری ہے جو راجیہ سبھا میں اس ہفتے کی کارروائی میں ایجنڈہ میں شامل ہے۔لوک سبھا میں 9 ؍مارچ کو بل کو منظور کیا گیا تھا، بعد میں اسے راجیہ سبھا کی 23رکنی پرور کمیٹی کو بھیجا گیا، کمیٹی کی رپورٹ پر ایس پی، کانگریس، جنتا دل یو اور سی پی آئی کے نمائندوں نے عدم اتفاق کا نوٹ دیا ہے ۔بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن بھوپندر یادو کی صدارت والی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ اگر حکومت شترو جائیداد کو فروخت کر کے اس کے حل کے لیے مجوزہ ترامیم کو لاگو کرتی ہے تو موجودہ کرایہ دار یا قبضہ رکھنے والے کے مفاد کچھ وقت کے لیے محفوظ ہو سکتے ہیں تاکہ وہ اچانک بے گھر نہیں ہو جائیں یا مالیاتی اداروں اور سرکاری شعبے کی کمپنیوں کا کام کاج متاثر نہ ہو۔عدم اتفاق نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمارے خیال سے موجودہ بل کی دفعات فطری انصاف، انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں اور قانون کے طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی یہ منفی اثرات ڈالتی ہیں۔اس سے لاکھوں ہندوستانی شہری متاثر ہوں گے اور کسی دشمن حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔چاروں پارٹیوں کے نمائندوں ، کے سی تیاگی (جے ڈی یو ) کے رحمن خان پی ایل پنیا، حسین دلوی( کانگریس) ڈی راجہ (سی پی آئی)اور جاوید علی خان(ایس پی)نے کہا کہ 1968کا قانون بہت متوازن ہے اور یہ مانتا ہے کہ دشمن مستقل نہیں ہے اور ہندوستانی شہریوں کو جانشینی سمیت ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے ۔


Share: