نئی دہلی، 31؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )ہاشم پورہ قتل عام کے تقریباََ30سال بعد غازی آباد ضلع کے اس وقت کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے ایک کتاب لکھ کر اس دردناک سانحہ کویادکیاہے۔اس واقعہ میں پی اے سی کے جوانوں نے 42مسلمانوں کوگولی مار کر موت کے گھاٹ اتاردیاتھا۔ویبھوتی نارائن رائے نے کہاکہ میرے ضمیرپر1987کی امس بھری گرمیوں والی 22مئی کی خوفناک رات اب بھی بوجھ بنی ہوئی ہے۔اور اسی طرح سے بعد کے دن میری یادوں میں ایسے تازہ ہیں جیسے کہ کسی پتھرپرہوں۔ اس نے مجھے پولیس اہلکار کے طور پر جکڑ لیا، ہاشم پورہ کا تجربہ مجھے اب بھی تکلیف دیتا ہے۔ہاشم پورہ22مئی ،دی فارگا ٹن اسٹوری آف انڈیاز بگسٹ کسٹڈیل کلنگس‘نامی کتاب میں قتل عام اور اس کے بعد کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کے ہندی ورژن کا ترجمہ درشن دیسائی نے کیا ہے، اس کتاب کو پینگوئن بکس نے شائع کیا ہے۔رائے نے یاد کیاکہ یہ رات تقریباََساڑھے دس بجے کی بات ہے اور میں بس ہاپوڑ سے آیا تھا۔ضلع مجسٹریٹ نسیم زیدی کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پراتارنے کے بعد میں پولیس سپرنٹنڈنٹ کی رہائش پہنچا۔انہوں نے کہاکہ میں جیسے ہی اس کے دروازے پر پہنچا، میری گاڑی کی ہیڈلائٹ ڈرے ہوئے اور گھبرائے ہوئے انسپکٹر بی بی سنگھ پر پڑی جو اس وقت لنک روڈ تھانے کے انچارج تھے۔میں اندازہ لگا سکتا تھا کہ ان کے علاقے میں کچھ عجیب وغریب واقعہ ہوا ہے۔میں نے ڈرائیور سے کار روکنے کوکہااورمیں اتر گیا۔ان کے مطابق، سنگھ اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ وہ صحیح سے نہیں بتا پا رہے تھے کہ کیا ہوا۔
رائے نے اپنی کتاب میں لکھاکہ پھر بھی، ان کے لڑ کھڑاتے الفاظ کسی کو بھی پریشان کرنے کے لیے کافی تھے، مجھے سمجھ میں آگیا کہ پی اے سی کے جوانوں نے ماکن پور جانے والے راستے کی نہر والی کراسنگ کے پاس کچھ لوگوں کو مار ڈالا ہے جن کے مسلمان ہونے کاخدشہ ہے۔رائے کے ذہن میں سوال اٹھے کہ انہیں کیوں مارا گیا ؟ ۔کتنے لوگ مارے گئے؟۔ انہیں کہاں سے پکڑا گیا؟ انہوں نے لکھا ہے کہ کافی کوشش کے بعد سنگھ نے مجھے واقعہ کے بارے میں بتایا کہ رات تقریباََ نو بجے جب بی بی سنگھ اور ان کے ساتھی تھانے میں بیٹھے تھے، انہوں نے ماکن پور کے پاس گولیوں کی آوازیں سنی۔انہوں نے سوچاکہ گاؤں میں کچھ ڈاکو ہیں۔انہوں نے لکھاکہ سنگھ نے اسی سمت میں اپنی موٹر سائیکل دوڑا دی اور ان کے ساتھ ایک دوسرے ڈپٹی انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل تھے۔چند میٹر چلنے کے بعد انہیں ایک ٹرک دیکھائی دیا جو تیز رفتاری سے ان کی طرف آرہا تھا۔رائے نے کہاکہ اگر سنگھ نے موٹر سائیکل سڑک سے نیچے نہیں اتاری ہوتی تو ٹرک نے انہیں کچل دیا ہوتا۔جب وہ اپنی گاڑی کنٹرول کر رہے تھے، انہوں نے ٹرک کے پیچھے پیلے رنگ میں ’41‘لکھا ہوا دیکھا اور خاکی وردی میں کچھ لوگ پیچھے بیٹھے تھے۔پیشہ ورانہ پولیس اہلکاروں کے لیے یہ معلوم کرنا مشکل نہیں تھا کہ گاڑی پی اے سی کی 41ویں بٹالین کی تھی ۔پولیس اہلکاروں نے سوچا کہ ایک پی اے سی ٹرک رات کے وقت اس سڑک پر کیوں تھا اور کیا اس کا تعلق گولیوں سے تھا۔اس کے بعد پولیس اہلکار ماکن پور پہنچے۔انہوں نے لکھاکہ وہ بمشکل ایک کلومیٹر اور آگے بڑھے ہوں گے ، تبھی سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے کچھ بہت ہی ڈراونا دیکھا۔ماکن پور سے ٹھیک پہلے نہر کے پاس خون سے لت پت لاشیں پڑی تھیں ۔اس وقت تک بھی لاشوں سے خون بہہ رہا تھا۔رائے نے لکھاکہ سنگھ نے اپنی موٹر سائیکل کی ہیڈلائٹ سے دیکھا کہ نہر کے کنارے جھاڑیوں میں لاشیں پڑی تھیں اور کچھ پانی میں بھی بہہ رہی تھیں ۔ڈپٹی انسپکٹر اور ان کے ساتھیوں کو تیز رفتار پی اے سی ٹرک ، گولیوں اور نہر میں لاشوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی۔