نیویارک، 21؍جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )روہتک میں ایک دلت لڑکی کے ساتھ ہوئی مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں اقوام متحدہ کے ایک اعلی افسر نے خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد سے متعلق معافی مانگنے کی نفرت آمیز ثقافت کی مذمت کی ہے اور اس ظلم کو ختم کرنے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔یونیسیف کی چیف جنسی صلاح کار انجو ملہوترا نے کل ایک بیان میں کہاکہ ہندوستان میں دلت لڑکی کے ساتھ انہیں پانچ مردوں کی طرف سے مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کی جائے، جن میں سے دو نے تین سال پہلے اس کے ساتھ عصمت دری کی تھی ، دراصل لڑکیوں اور عورتوں کے خلاف ہونے والے تشدد سے متعلق معافی کی نفرت آمیز ثقافت کو اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی 12کروڑ لڑکیوں میں سے ہر 10میں سے ایک لڑکی جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہے اور ان میں سے زیادہ تر لڑکیوں کے ساتھ 15سے 19سال کی عمر کے درمیان ایسا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا ، لیکن صرف غصہ کافی نہیں ہے، یہ ایک عام بات بن چکی ہے۔اس ظلم کو ختم کرنے کے لیے اور تشدد کے متاثرین کو انصاف اور تحفظ دینے کے لیے اب ہمیں کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔21سالہ متاثرہ نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ اسے نشہ آور دوائیں دے کر اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری ہی نہیں کی گئی بلکہ ان میں سے دو حملہ آوروں نے تین سال پہلے بھی نشہ آور دوائیں دے کر اس کی عصمت دری کی تھی ۔