بنگلورو۔17/اکتوبر(ایس او نیوز) شیواجی نگر کے کامراج روڈ پر کل آر ایس ایس کارکن ردریش کے قتل کے بعد سے شیواجی نگر کے مختلف علاقوں میں پھیلی کشیدگی آج بھی برقرار رہی۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کی طرف سے شیواجی نگر بند منانے کے اعلان پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیاگیا۔یہاں کے پوش تجارتی علاقہ کمرشیل اسٹریٹ اور آس پاس جمعہ مسجد روڈ وغیرہ میں دکانیں بند رہیں، جبکہ پورے علاقہ میں پولیس کا معقول بندوبست کیاگیا تھا۔ شیواجی نگر بس اسٹانڈ کے روبرو بی جے پی نے صبح سے شام تک احتجاجی دھرنا دیا، جس کی وجہ سے بس اسٹانڈ میں بسوں کی آمد ورفت متاثر رہی۔ شہر کے کمرشیل اسٹریٹ پولیس تھانہ میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اوم پرکاش نے بتایاکہ ردریش کے قتل کی جانچ مختلف زاویوں سے جاری ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں کئی لوگوں سے پوچھ تاچھ کی ہے، تاہم اب تک اس سلسلے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اس قتل کے سیاسی اور غیر سیاسی پہلوؤں کا پولیس بغور جائزہ لینے میں مصروف ہے۔سچائی جو بھی ہوگی عوام کے سامنے لائی جائے گی۔خاطیوں کو بہت جلد سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جائے گا۔ اس دوران پولیس ذرائع نے بتایا کہ ردریش کے قتل کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کیلئے اب تک 30/ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اس سلسلے میں ان سے کافی سختی سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔آج صبح پولیس کمشنر این ایس میگرک نے شیواجی نگر بس اسٹانڈ کے قریب احتجاج میں مصروف بی جے پی لیڈران کو اس بات کیلئے منانے کی کوشش کی کہ ردریش کے قاتلوں کوپولیس جلد گرفتار کرلے گی، تاہم ان لیڈران نے ان کی ایک نہیں مانی اوراحتجاج پر اڑے رہے، جس کی وجہ سے شیواجی نگر علاقہ میں کشیدگی کا ماحول برقرار رہا۔ اس کے بعد علاقہ بھر میں افزود پولیس فورس تعینات کردی گئی اور امتناعی احکامات کو مزید جاری رکھنے کا فیصلہ کیاگیا۔ ادھر وکٹوریہ اسپتال میں ردریش کی نعش کا پوسٹ مارٹم کافی دیر سے شروع ہوا۔ ردریش کے رشتہ داروں اور آر ایس ایس کارکنوں نے قاتلوں کی گرفتاری تک ردریش کی نعش حاصل کرنے سے انکار کردیا۔ ڈی جی پی نے بتایاکہ اس قتل کی جانچ کیلئے پولیس کمشنر نے چھ الگ الگ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ابتدائی جانچ کے بعد یہی پتہ چلا ہے کہ منظم منصوبے کے تحت ردریش کا قتل کیاگیا ہے۔ اس سلسلے میں مکمل جانکاری حاصل کرنے کے بعد پولیس نے خاطیوں کو دھرنے کیلئے بڑے پیمانے پر جال بچھادیا ہے، کمشنر نے بتایاکہ جب تک ردریش کی آخری رسومات ادا نہیں ہوجاتیں،اس وقت تک شیواجی نگر میں امتناعی احکامات اور پولیس کا بندوبست برقرار رہے گا۔ احتیاطی طور پر پولیس نے شیواجی نگر بس اسٹانڈ میں داخل ہونے والی بسوں کو کوئنس روڈ،انفنٹری روڈ اور انڈین ایکسپریس سرکل تک ہی روک دیا۔ کامراج روڈ اور آس پاس کے علاقوں میں جہاں بند کا اثر دیکھا گیا تو دوسری طرف فریزر ٹاؤن، بھارتی نگر، شیواجی نگر چوک اور دیگر علاقوں میں بند کا ملا جلا اثر دیکھا گیا۔ احتجاج میں سابق نائب وزیراعلیٰ آر اشوک، رکن پارلیمان بی سری راملو، پی سی موہن، سابق وزراء سریش کمار، کٹا سبرامنیا نائیڈو، اراکین اسمبلی منی راجو، تارا، نرمل سرانا اور دیگر نے حصہ لیا۔ ان لوگوں نے کہاکہ جب تک ردریش کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس کے پوسٹ مارٹم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری طرف وکٹوریہ اسپتال میں جہاں ردریش کی نعش رکھی گئی ہے وہاں بھی پولیس کا معقول بندوبست کیاگیا ہے۔ اس دوران بی جے پی نے آج شام یہ اعلان کیا کہ جب تک ردریش کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیاجاتا اس وقت تک شیواجی نگر بس اسٹانڈ کے روبرو بی جے پی کی طرف سے شروع کیاگیا احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔اس دوران سابق نائب وزیراعلیٰ آر اشوک نے ردریش کے قتل کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ردریش کے قاتل اب بھی شیواجی نگر کی گلیوں میں کھلے عام گھوم رہے ہیں واقفیت کے باوجود پولیس ان کو گرفتار نہیں کررہی ہے۔ شیواجی نگر بس اسٹانڈ کے پاس احتجاج کے دوران پولیس کمشنر این ایس میگرک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اشوک نے کہاکہ پولیس افسران کے سامنے ہی ردریش کے قاتل کھلے عام گھوم رہے ہیں، لیکن سیاسی دباؤ کی وجہ سے حکومت یا پولیس ان کے خلاف کارروائی نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ردریش کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے بی جے پی کل سے اپنے احتجاج میں اور شدت لائے گی، کل شہر میں ایک بہت بڑا جلوس نکالا جائے گا اور پرسوں سے آنند راؤ سرکل پر واقع گاندھی مجسمہ کے روبرو ردریش کیلئے انصاف کی مانگ کرتے ہوئے مسلسل دھرنا دیا جائے گا۔
ردریش کے قتل کی مذمت: وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس موقع پر شیواجی نگر علاقہ میں آر ایس ایس کارکن ردریش کے قتل کی مذمت کی اور کہاکہ جس کا بھی قتل کیا جائے وہ غیر انسانی حرکت ہے۔اس معاملے میں حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی، غیر جانبداری سے تحقیقات کرکے خاطیوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلے میں احتجاج پر آمادہ بی جے پی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے احتجاج سے دستبردار ہوجائے حکومت ردریش کے قاتلوں کو جلد ازجلد سلاخوں کے پیچھے پہنچائے گی۔ سابق وزیر وی سرینواس پرساد کی طرف سے آج اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد آئندہ انتخابات میں سدرامیا کو ہرانے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان کی جیت یا ہار کا فیصلہ لیڈران نہیں بلکہ عوام کریں گے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے ہمراہ ریاستی وزراء روشن بیگ، کے جے جارج، کرشنا بائرے گوڈا، ایم آر سیتارام، میئر جی پدماوتی، ڈپٹی میئر آنندا، بی بی ایم پی کمشنر منجوناتھ پرساد، بی ڈی ا ے کمشنر راج کمار کھتری، بنگلور میٹرو ریل کارپوریشن کے منیجنگ ڈائر کٹر پردیپ سنگھ کھرولہ وغیرہ موجود تھے۔
ردریش کے قاتلوں کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا: وزیر داخلہ
شہر کے شیواجی نگر علاقہ میں کل آر ایس ایس کارکن ردریش کے قتل کے سلسلے میں ملزمین کو بلامروت گرفتار کیا جائے گا۔یہ بات آج وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے بتائی۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پولیس نے اس معاملے کی جانچ کیلئے چھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ردریش کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہئے۔کانگریس کارکن یا بی جے پی کارکن کے نظریہ سے اس معاملے کی جانچ نہیں کی جانی چاہئے،بلکہ انسانیت کی بنیاد پر اس معاملے کی جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ دن دھاڑے شہر کے مصروف ترین علاقہ میں ایک شخص کا قتل کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں کسی طرح کی مروت برتی نہیں جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ردریش کے قتل پر احتجاج کرنے کا بی جے پی کوآئینی حق حاصل ہے، اس پارٹی کے کارکن کی موت کا دکھ سبھی کو ہے، لیکن اس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے۔ردریش کے خاندان والوں کے ساتھ حکومت کی پوری ہمدردی ہے، قاتلوں کو ہرگزبخشا نہیں جائے گا۔