بنگلورو۔21/اکتوبر(ایس او نیوز) ریاست میں نظم وضبط کا نظام درہم برہم ہوجانے کا دعویٰ کرتے ہوئے آج بی جے پی نے گورنر واجو بھائی والا سے مداخلت کی گذارش کرتے ہوئے حکومت کے خلاف ایک شکایت پیش کی۔ ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کی قیادت میں آج راج بھون پہنچ کر گورنر کو بتایاگیا کہ ریاست میں نظم وضبط ٹوٹ چکا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کارکن ردریش کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی نے شکایت کی ہے کہ حکومت ووٹ بینک کی سیاست کرکے قاتلوں کو کھلی چھوٹ دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے ردریش کے قتل کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے، ریاست کے دیگر مقامات پر بھی آر ایس ایس کارکنوں کا قتل کیاگیا ہے، انہیں بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جارہاہے۔ بی جے پی نے کہاکہ آر ایس ایس کارکن ردریش کے قتل کے پیچھے جہادی اور مارکسٹ اتحاد کار فرما ہے۔ ریاستی حکومت اس زاویہ سے تحقیقات کرنے پر آمادہ نہیں۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ ردریش کے قتل کی جانچ قومی تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کی جائے۔ گورنر سے ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یڈیورپا نے ریاستی حکومت پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی نے گورنر کو بتایا ہے کہ ریاست میں نظم وضبط کا نظام ٹوٹ چکا ہے۔ آر ایس ایس کارکن کے قتل کی موثر جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت قاتلوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ یڈیورپا نے کہاکہ جب تک ریاست میں کانگریس حکومت رہے گی وہ ردریش کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کرے گی۔اسی لئے اس معاملے کی جانچ قومی تحقیقاتی ایجنسی کو دینے کی مانگ کی گئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے ردریش کے قتل میں بنیاد پرست تنظیموں کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے مقصد سے ردریش کا قتل کیاگیا ہے۔ اس موقع پر سابق نائب وزیراعلیٰ آر اشوک، رکن پارلیمان پی سی موہن، اراکین اسمبلی بسوراج بومئی، سی ٹی روی، ایس آر وشواناتھ، اروند لمباولی، بی این وجئے کمار، وائی نارائن سوامی، منی راجو، وملا گوڈا وغیرہ موجود تھے۔
بی جے پی ردریش کے قتل کو سیاسی رنگ نہ دے: دھننجیا
شیواجی نگر علاقہ میں آر ایس ایس کارکن ردریش کے قتل کو بی جے پی سیاسی رنگ دینے کی کوشش بسیار کررہی ہے۔ یہ الزام آج کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے شعبہئ قانون کے سربراہ سی ایم دھننجیا نے لگایا۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ جوبھی ردریش کے قاتلوں کا سراغ دے گا اسے وہ اپنی طرف سے ایک لاکھ روپیوں کا انعام دیں گے۔انہوں نے کہاکہ ردریش کے قتل کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہوگی، لیکن اس کارکن کی موت کو اپنی سیاسی دکان بنانے بی جے پی جو کوشش کررہی ہے اس کی بھی سخت مذمت کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے ساڑھے تین سال کے دوران ریاست میں قتل کی 178 وارداتیں پیش آئی ہیں، جبکہ 2008 سے 2013 تک بی جے پی کے دور اقتدار میں 1223 قتل کی وارداتیں پیش آئی ہیں۔ ردریش کے قتل کی جانچ قومی تحقیقاتی ایجنسی کے ذریعہ کرانے بی جے پی کے مطالبہ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے دھننجیا نے کہاکہ بی جے پی شاید اب تک یہ سمجھ نہیں پائی ہے کہ این آئی اے کا قیام کس مقصد کے تحت کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ این آئی اے کا قیام ان معاملات کی جانچ کیلئے کیاگیا ہے جو ملک کی سالمیت اور یکجہتی سے جڑے ہوئے ہوں۔ یوپی اے حکومت نے اس ایجنسی کا قیام کیاتھا اور بی جے پی نے این آئی اے کے قیام کی شدید مخالفت کی تھی، لیکن آج وہ اپنے معاملات پراسی ایجنسی سے رجوع کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ردریش کے قتل کی جانچ میں پولیس افسران مصروف ہیں۔ بی جے پی کو چاہئے کہ اگر اس کے پاس کوئی سراغ ہے تو اسے پولیس کے حوالے کریں اور جانچ میں افسران کا ساتھ دیں۔ایسا کرنے کی بجائے قتل کو سیاسی رنگ دے کر بی جے پی دیانتدار پولیس افسران کے حوصلوں کو پست کرنا چاہتی ہے۔