نئی دہلی،26؍دسمبر (ایس او نیوز،آئی این ایس انڈیا )دہلی کی ایک عدالت نے سی بی آئی جانچ کے بعد ارشاد علی کو بے داغ قرار دیا، لیکن اس وقت تک ارشاد علی کی زندگی پوری طرح تبدیل ہو چکی تھی۔11سال کے دوران جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہوئے انہوں نے اپنے ماں باپ اورایک6ماہ کی بیٹی کو کھو دیا، اب شمال مغربی دہلی کے اندر انکلیو میں ایک کمرے کے گھر میں وہ افسوس میں بیٹھے ہیں، ان کے ساتھ ان کی بیوی اور دو بیٹے ہیں۔پولیس نے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے الزام میں انہیں 11سال پہلے گرفتارکیاتھا، خاندان نے الزامات سے انکار کیا اور معاملے کی سی بی آئی جانچ کامطالبہ کیا اور آخر میں اب وہ بے داغ نکلے ہیں،لیکن جیل سے رہا ہونے پر تو انصاف ہو گیا، لیکن کیا واقعی ان کو انصاف مل پایا ہے، یہی سوالات ارشاد اور کئی لوگوں کے ذہن میں باربار اٹھ رہے ہیں۔جیل سے چھوٹے ہوئے ارشاد کو زیادہ وقت نہیں گزرا ہے، اب اپنی قسمت کے بھروسے جی رہے ارشاد کو حال ہی میں 22؍دسمبر کو دہلی کی ایک عدالت نے بری کیا ہے۔انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس ‘کی خبر کے مطابق ،ارشاد کو افسوس ہے کہ جیل جانے کے ایک سال کے اندر ہی ان کی والدہ کاانتقال ہو گیا،موت سے پہلے تک وہ مسلسل پولیس کے دروازے کھٹکھٹاتی رہی، ہر جگہ فریادکرتی رہی اور کہتی رہی کہ بیٹا بے قصور ہے، بے گناہ ہے، لیکن پولیس سے انہیں بار بار صرف ذلیل ہی کیا۔بیٹے کی جیل سے رہائی کی امید میں اسی سال ارشاد کے والد کا بھی انتقال ہو گیا۔ارشاد کہتے ہیں کہ مجھے جیل سے رہا کرانے کے لیے والد نے اپنی ساری کمائی خرچ کر دی۔اپنے بچوں کی محبت سے محروم رہنے کا افسوس ظاہر کرتے ہوئے ارشاد کا کہنا ہے کہ میری بیٹی آئفہ صرف 6ماہ کی تھی جب مجھے جیل ہوئی تھی، اب وہ بڑی ہو گئی ہے،اسے میرا اور مجھے اس کا پیار نہیں ہوا۔
غور طلب ہے کہ ارشاد علی کے والد محمد یونس 50سال پہلے بہار کے دربھنگہ کے پیغمبر پور سے دہلی آئے تھے۔وجہ صرف محنت کرکے خاندان کا پیٹ پالنے تھا، ان کی 8اولاد تھی ، انہوں نے علی کو تعلیم کے لیے دربھنگہ کے مدرسے میں بھیج دیا، لیکن علی کو تعلیم درمیان میں ہی چھوڑنی پڑ گئی کیونکہ ایک قتل کے معاملہ میں بڑے بھائی کی گرفتاری ہو گئی۔وہ 1991میں دہلی آ گیا،اس کے بعد علی کے بھائی کو دہشت گردی کے معاملہ میں گرفتار کرلیا گیا۔1996میں بڑے بھائی اور اس کے والد کو پولیس نے پکڑ لیا۔علی نے بتایا کہ اے سی پی راجبیر سنگھ نے 10دنوں تک ہمیں مورس نگر میں رکھا۔میرے والد کو میرے سامنے ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا،پولیس والے کہتے رہے کہ میرا بھائی ایک دہشت گرد ہے اور میں بھی،ان کی ماں نے جب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو پولیس نے انہیں چھوڑ دیا۔اس کے بعد کرائم برانچ نے انہیں دوبارہ گرفتارکرلیا اور 8دنوں تک ٹارچر کیا، ان پرمخبر بننے کا دباؤ بھی ڈالا گیا، 2001میں مجھے ایک آئی بی کے افسر مجید علی نے گرفتارکر لیا، جس کا دوسرا نام خالد تھا۔انہوں نے میرے درزی دوست رضوان کو بھی گرفتارکر لیا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے بھائی کو خط لکھوں اور کہوں کہ مجھے بچانے کے لیے وہی کرے جو کہا جا رہا ہے۔نوشاد پولیس کی جانب سے جیل کے اندر کام کرنے کے لیے تیار ہو گیا اور علی باہر سے، ہمیں 5000روپے ماہانہ تنخواہ اور ایک فون دیا گیا، میرے بھائی کا کام ان لوگوں پر نظر رکھنا تھا جو دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار ہوئے ہیں اور میرا کام مجید کو رپورٹ کرنا تھا، ملزم جو خط پوسٹ کرنے کو دیتے تھے وہ مجھے مجید کو دینے ہوتے تھے۔اس کے بعد مجید نے اس سے ایک مسلم گاؤں میں بطور مولوی جانے کو کہا اور وہاں کے لوگوں کو کسی دہشت گرد تنظیم میں بھرتی ہونے کے لیے اکسایا ۔مجید نے یہ بھی کہا کہ ایک میٹنگ کرو جس پر وہ چھاپہ ماریں گے ، اس کے بعد میں بھاگ جاؤں گا اور باقی لوگوں کو پکڑ لیا جائے گا اور کوئی بھی اس آپریشن پر سوال نہیں اٹھا پائے گا۔ارشاد نے بتایاکہ 2004میں مجھے کشمیری فیاض سے ملوایا گیا جو آئی بی کے لیے کام کرتا تھا، منصوبہ بندی یہ تھی کہ ہم سرحد پار کر کے ایک باغی تنظیم میں دراندازی کریں گے، لیکن یہ پلان کامیاب نہیں ہوا۔2005میں مجید نے مجھے دھولا کنواں آفس بلایا، مجھے گاڑی میں بند کر کے آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔اس کے بعد کرنال بائی پاس پر لے جا کر انہوں نے جھوٹی کہانی بنائی کہ ہم کشمیر سے آئے ہیں، انہوں نے مجھے دہشت گرد بنا دیا۔اس کے بعد دہلی ہائی کورٹ میں جب عرضی داخل کی گئی تو اسپیشل سیل کی کہانی مشتبہ پائی گئی اور کورٹ نے سی بی آئی جانچ کی ہدایت دی ۔سی بی آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ علی اور نواب نام کے دومخبروں کو اسپیشل سیل نے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا۔