مظفر پور، 23؍جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )بہار کے مظفر پور ضلع میں دو دلتوں کی بری طرح پٹائی اور ان میں سے ایک کے منہ میں پیشاب کر دئیے جانے کے الزام میں پارو تھانہ میں ایف آئی آر درج کر ائی گئی ہے جبکہ پولیس نے اپنی سپرویژن رپورٹ میں متاثر ہ کے منہ میں پیشاب کئے جانے کی بات سے انکار کیا ہے۔متاثرین میں سے ایک راجیو کمار پاسوان کی ماں نے جمعرات کو بابورام گاؤں کے اس واقعہ کو لے کر پارو تھانہ میں ایک پنچایت پرمکھ کے شوہر مکیش ٹھاکر سمیت 11لوگوں کے خلاف کل ایف آئی آر درج کرائی ہے۔شکایت میں ایک موٹر سائیکل چوری کے الزام میں اپنے بیٹے کو پیٹے جانے کے ساتھ اس کے منہ میں پیشاب کر دئیے جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ وویک کمار نے بتایا کہ سب ڈویژنل پولیس افسر مدن کمار آنند کی سپرویژن رپورٹ میں دلتوں کی پٹائی کے الزام کو صحیح پایا گیا لیکن منہ میں پیشاب کئے جانے کی تصدیق نہیں ہوپائی ہے۔وہیں مکیش ٹھاکر نے اپنے اوپر لگائے گئے الزام کو سازش قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی اعلی سطحی جانچ کے لیے تیار ہیں۔دوسرے متاثرہ دلت کا نام منا پاسوان ہے جو کہ راجیو کمار پاسوان کا دوست ہے۔دونوں پارو تھانہ کے تحت مٹھیا گاؤں کے رہائشی ہیں۔پارو تھانہ کے صدر شاہنواز نے بتایا کہ اس معاملے میں ملزم بنائے گئے 11افراد میں دو سومن ٹھاکر اور منچن ٹھاکر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور دیگر ملزمین کی گرفتاری کے لیے کوشش جاری ہے۔