اینٹیگا، 23؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )کیریئر کی پہلا ڈبل سنچری لگانے کے بعد انتہائی مطمئن ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے کہا کہ اس کامیابی کی بدولت وہ2011کے ویسٹ انڈیز دورے کی بری یادوں پر قابو پانے میں کامیاب رہے ،جہاں انہیں بلے سے جوجھنا پڑا تھا۔کوہلی نے پانچ سال بعد کربیائی سرزمین پر واپسی کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں بطورکپتان یہاں اپنی پہلی ہی اننگ میں کیریئر کی پہلی ڈبل سنچری لگائی ۔ویسٹ انڈیز کے پچھلے دورے پر 15سے کچھ زیادہ کی اوسط سے رن بنانے والے کوہلی نے کہاکہ ہاں، یہ انتہائی اچھا احساس ہے۔میں نے یہاں ڈبیو کیا تھا اور وہ میرے لیے یادگار سیریز نہیں تھی۔یہاں واپس آنا اور ڈبل سنچری بنانا میرے لیے کافی اطمینان بخش ہے کیونکہ ماضی میں کچھ مواقع پر بڑے اسکور سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔یہ 27سالہ بلے باز غیر ملکی سرزمین پر ڈبل سنچری لگانے والا پہلا ہندوستانی کپتان بھی بن گیا ہے ۔کوہلی نے بی سی سی آئی ٹی و ی سے کہاکہ مجھے معلوم ہے کہ میں بڑی سنچری لگانے کے قابل ہوں، فرسٹ کلاس میچوں میں یہ میری پہلی ڈبل سنچری ہے۔یہ ایسی چیز ہے جو میں ہمیشہ سے کرنا چاہتا تھا اور میں کافی اچھا محسوس کر رہا ہوں کہ میں اس میں کامیاب ہو پایا۔انہوں نے کہاکہ یہ کافی اچھا احساس ہے۔جہاں تک میرا اور پوری ٹیم کا سوال ہے، ٹیسٹ کرکٹ سب سے اہم فارمیٹ ہے اور اس لیے جب آپ ٹیسٹ کرکٹ میں اچھی کارکردگی کرتے ہو ، تو یہ آپ کو سب سے زیادہ اطمینان دیتا ہے۔اس وقت میں انتہائی خوش ہوں۔
کوہلی نے کہا کہ صرف پانچ ماہر بلے بازوں کے ساتھ اترنے سے ان پر اضافی ذمہ داری تھی اور وہ نمونہ پیش کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے کہاکہ جب آپ کسی یقینی مجموعہ کے ساتھ اترتے ہو تو یہ کافی اہم ہوتا ہے کہ آپ اپنے سامنے موجود ذمہ داری کو محسوس کرو۔پانچ بلے بازوں کے ساتھ کھیلنے سے بلے بازوں پر اضافی دباؤ ہوتا ہے لیکن ہم اسے چیلنج کے طور پر لینا چاہتے ہیں۔کپتان کے طور پر میں کھلاڑیوں سے ایسا کچھ کرنے کے لیے کبھی نہیں کہوں گا ،اس لیے کہ میں خود نہیں کر سکتا اور میرا ہمیشہ سے اسی پر یقین رہا ہے۔کوہلی نے کہا کہ بلے بازوں نے کافی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ شیکھر دھون(84)نے ذمہ داری سمجھتے ہوئے کافی اہم کردار ادا کیا۔روی چندرن اشون نے بھی اچھی بلے بازی کی اور سنچری اسکورکی ۔رددھیمان ساہا(40)نے اچھی اننگ کھیلی اور امت مشرانے بیش قیمت 53 رن بنائے۔مجموعی طور پر بلے بازی میں سبھی نے اچھی کوشش کی اور اس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے ۔