ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جواہر باغ پر دو سال تک قبضہ کیوں رہنے دیا گیا:ہائی کورٹ نے یوپی حکومت سے مانگاجواب

جواہر باغ پر دو سال تک قبضہ کیوں رہنے دیا گیا:ہائی کورٹ نے یوپی حکومت سے مانگاجواب

Tue, 19 Jul 2016 11:07:19    S.O. News Service

الہ آباد، 18جولائی؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)الہ آباد ہائی کورٹ نے آج اترپردیش حکومت سے پوچھا کہ متھرا کے جواہر باغ میں دو سال سے زیادہ وقت تک شرپسندوں کا قبضہ کیوں رہنے دیا گیا جبکہ 2014میں اس عوامی پارک کا استعمال صرف دو دن تک مظاہرہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔جواہر باغ معاملے میں سی بی آئی جانچ کی مانگ والی ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کر رہی جسٹس وکرم ناتھ اورجسٹس رابندر کاکڑ کی بنچ نے وہاں تجاوزات اور اس سے متعلقہ کارروائی کو لے کر متھرا کی ضلع انتظامیہ اور ریاستی حکومت کے درمیان ہوئی بات چیت کی تفصیل بھی مانگی۔واقعہ کے سلسلے میں سی بی آئی جانچ کی مانگ پر زور دیتے ہوئے کیس کے ایک درخواست گزار بی جے پی لیڈر اور سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے نے عدالت میں الزام لگایا کہ مظاہرین کے خود ساختہ لیڈر رامورکش یادو کو اتر پردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی کی غلط حمایت تھی۔یادو کے حامیوں نے جواہر باغ پرطویل عرصے سے قبضہ کر رکھا تھا جسے خالی کرانے کیلئے دو جون کو کارروائی کی گئی۔درخواست گزار نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے رامورکش یادو کے خلاف کارروائی نہیں کی جبکہ جواہر باغ پر قبضے کی مدت کے دوران اس کے اور اس کے پیروکاروں کے خلاف 16ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اس نے 2014کے لوک سبھا انتخابات میں اترپردیش میں حکمران پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کے لئے وسیع تشہیر کی تھی اور اس کے بدلے میں ریاستی حکومت ظاہری طورپراسے عظیم الشان عوامی پارک سونپنے کی کوشش کر رہی تھی۔عدالت نے ریاستی حکومت سے جواب دینے کو کہا اور اگلی سماعت کے لئے یکم اگست کی تاریخ مقرر کی۔ہائی کورٹ کے ایک حکم کے بعد گذشتہ دو جون کو جواہر باغ کو خالی کرانے کی کارروائی میں کے قبضے اور پولیس کے درمیان جھڑپوں ہوا جس میں دو پولیس افسران سمیت 29افراد ہلاک ہوئے تھے۔اترپردیش کی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لئے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیشن کا قیام کیا۔


Share: