لکھنؤ 27جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کے دواراکین اسمبلی نے آج بغاوت کا جھنڈا اٹھاتے ہوئے بی ایس پی سربراہ مایاوتی پرانتخابات کے ٹکٹ کے لئے موٹی رقم لینے کاالزام لگایا۔پلیا سے بی ایس پی رکن اسمبلی ہروندرکمارساہنی عرف رومی ساہنی اورملاوا سے پارٹی ممبر اسمبلی برجیش ورما نے یہاں پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ مایاوتی موٹی رقم لے کر الیکشن کے ٹکٹ فروخت کر رہی ہیں۔اس سے پارٹی کی بدنامی ہو رہی ہے۔مایاوتی کایہ طرزِعمل بہوجن سماج کے ادرشو بھیم راؤامبیڈکراورکانشی رام کے اصولوں کے خلاف ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ چھ جولائی کو انہیں مایاوتی کی رہائش گاہ پربلایاگیاتھا اورپارٹی جنرل سکریٹری نسیم الدین صدیقی نے بی ایس پی سربراہ کی موجودگی میں ان سے پلیااورمللاوا نشستوں کے ٹکٹ کیلئے بالترتیب پانچ اور چار کروڑ روپے مانگے تھے۔ساہنی اور ورما نے یہ بھی کہا کہ انہیں یہ انتباہ دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے وہ رقم جمع نہیں کی تو ان کے ٹکٹ کاٹ کر کسی دوسرے کو دے دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سب سے اونچی بولی لگانے والوں کو ٹکٹ دیئے جانے کا چلن انتہائی افسوسناک ہے۔پیسے کا یہ کھیل پارٹی کے رابطہ کاروں کے ذریعے کھیلاجارہاہے۔بی ایس پی کے سینئر رہنماؤں سوامی پرسادموریہ، کے آر کے چودھری اور رویندر ناتھ ترپاٹھی کی طرف سے حال میں بی ایس پی چھوڑے جانے کے بعد پارٹی میں یہ تازہ بغاوت ہوئی ہے۔ساہنی اور ورما نے بتایا کہ پارٹی کے نکال لیڈر جگل کشور سے رابطہ رکھنے کے الزام میں انہیں حال میں بی ایس پی سے نکال دیا گیا تھا لیکن چار دن بعد انہیں ایک کاغذپردستخط کرواکرپارٹی میں واپس لے لیاگیاتھا۔