نئی دہلی24جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ہندوستان کی سرحدی سلامتی فورسز(بی ایس ایف)اور پاکستان رینجرز کے درمیان ڈائریکٹر جنرل کے درجے کے مذاکرات اس ہفتے لاہور میں ہوں گے۔یہ مذاکرات بین الاقوامی سرحد سے امن معاہد ہ کی خلاف ورزی، مداخلت اور غیر قانونی سرنگ کے مسائل کو لے کر ہوگی۔حکام نے بتایا کہ بات چیت 27..28 جولائی کوہوگی۔یہاں سے بی ایس ایف کے ڈائریکٹرجنرل کے کے شرما کی قیادت میں سینئر افسر کل پاکستان کے لئے روانہ ہوں گے۔22 رکنی بھارتی وفد کے دیگراراکین امرتسر واقع اٹاریواگھا سرحد پار کرکے پاکستان جائیں گے۔سرحدی سیکورٹی فورسزاورپاکستانی رینجرس کے درمیان گزشتہ ایسی میٹنگ گذشتہ سال ستمبر میں یہاں ہوئی تھی۔حکام نے کہا کہ دونوں افواج کے درمیان گزشتہ اجلاس کے بعد2015کے شروع میں جموں کشمیر میں اکثر ہونے والے امن معاہدوں خلاف ورزیوں کے مقابلے میں بین الاقوامی سرحد کے قریب نو ماہ ’’نسبتََا کم غیر مستحکم‘‘رہی۔اگرچہ دراندازی اور منشیات کی اسمگلنگ باعث تشویش بنی رہی۔انہوں نے کہاکہ دونوں سرحدی محافظ فورسز کے درمیان نصف مذاکرات بہت باہمی مسائل کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔امید ہے کہ ہندوستانی طرف لاہور واقع رینجرز ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی اس بات چیت میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ، ممنوع اشیاء کی اسمگلنگ اور سرحد پار سے آنے والے غیر قانونی سرنگیں کا پتہ لگنے کا مسئلہ اٹھائے گا۔پچھلی بار دونوں فریقوں کے درمیان دہلی میں مذاکرات ہوئے تھے اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ مارٹر طور پر بھاری گولے نہیں داغے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بین الاقوامی سرحد پر رہنے والے شہریوں کو نقصان نہیں پہنچے۔دونوں افواج نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل سطح تک کے ان افسران اپنے موبائل نمبر، ای میل ایڈریس اور فیکس نمبر کا ادان پیش کریں گے تاکہ بھارتی ریاستوں جموں کشمیر،پنجاب، راجستھان اور گجرات سے لگتی بین الاقوامی سرحد پر مسائل کو حل کرنے کے لئے تیزی سے اقدام ہوسکیں۔دونوں فریقوں کے درمیان ڈائریکٹر جنرل سطح کی بات چیت نصف بنیاد پر ہوتی ہے لیکن کئی بارسلسلے میں کشیدگی کے سبب یہ میٹنگ نہیں ہوپائی ہیں۔