نئی دہلی، 26؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )لاپتہ ہوئے اے این- 32طیارے کو تلاش کرنے کے لیے تلاشی اور بچاؤ آپریشن آج پانچویں دن بھی جاری ہے۔طیارے میں سوار 29سیکورٹی اہلکاروں کے زندہ مل پانے کی امید مدھم ہوتی جا رہی ہے اور اب تک ملے تمام ثبوت کسی انہونی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آج کہا کہ کئی وسائل لگائے گئے ہیں۔ابھی تک ملے تمام ثبوت انہونی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ہم کسی علاقے سے آئی آواز یا کچھ کڑیوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ہم ان باتوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا پتہ لگایا جانا ضروری ہے لیکن کچھ ثبوت گمراہ کرنے والے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نیشنل سمندر ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے برف زمرہ کے جدید جہاز ساگر ندھی کو ماریشس سے بلایا گیا ہے۔وزیر دفاع نے کہاکہ یہ پہنچ جائے گا لیکن گہرے پانی میں کام کرنے والے جہاز کو بھی کام کرنے کے لیے ایک محدود علاقے کی ضرورت ہوتی ہے۔پاریکر نے کہا، کیونکہ پانی کے اندر گہرائی میں جا سکنے والے جہاز دراصل اس وقت تک تلاش نہیں کر سکتے، جب تک آپ کے پاس کوئی مقررہ چھوٹا علاقہ نہ ہو۔اسی لیے گزشتہ ڈورنیر حادثہ کے وقت آبدوزجہاز نے جگہ کی نشاندہی کی تھی اور اس کے بعد ہم نے گہرے پانی میں کام کرنے والا ریالنس کا جہاز بھیجا تھا۔یہ پہلے پہچان ہونے کے بعد دوسرے مرحلہ کی مہم ہے۔