نئی دہلی،19جولائی؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ملک میں اناج ذخیرہ کرنے کے لئے جمع ذخائر کی کمی نہیں ہونے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے حکومت نے آج بتایا کہ گزشتہ تین مالی سال کے دوران غذائی اجناس کے تباہ ہونے کے سلسلے میں لاپرواہی برتنے کے سلسلے میں 153حکام کے خلاف کارروائی کی گئی۔تمام معاملات میں 31لاکھ روپے وصول کئے گئے ہیں۔لوک سبھا میں جناردن سنگھ سیگریوال کے سوال کے جواب میں صارفین اور خوراک ورسدکے وزیرمملکت سی آر چودھری نے کہا کہ گزشتہ تین مالی سالوں میں اناج تباہ ہونے کے سلسلے میں لاپرواہی برتنے کے معاملے میں 153ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور جنرل منیجر کی سطح کے دو افسران کو ہٹایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں 31لاکھ روپے وصول کئے گئے ہیں جبکہ 18افسران کی تنخواہ کو کم کیا گیا ہے۔چودھری نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ ملازمت میں کوتاہی کے معاملات پر سخت کارروائی کر رہا ہے۔وہیں، خوراک ورسدکے وزیر رام ولاس پاسوان نے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ جب بھی اناج کے تباہ ہونے کی بات سامنے آتی ہے تب ہر ایک معاملے کی تحقیقات کی جاتی ہے اور اس کے لئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔