ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اراکین نے راجیہ سبھا میں عوامی مفادات سے متعلق مختلف مسائل کواٹھایا 

اراکین نے راجیہ سبھا میں عوامی مفادات سے متعلق مختلف مسائل کواٹھایا 

Tue, 26 Jul 2016 21:28:48    S.O. News Service

نئی دہلی، 26؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )راجیہ سبھا میں آج اراکین نے قومی شاہراہوں پر بیت الخلاؤں کی کمی، تعلیمی قرض لینے والے طلبا کو روزگار نہ ملنے کی صورت میں قرضہ لوٹانے سے معذوری ، کئی گاؤں میں سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے بارش میں خراب صورت حال سمیت عوامی مفادات سے منسلک مختلف مسائل اٹھائے اور حکومت سے ان کو جلد حل کرنے کا مطالبہ کیا۔جے ڈی یو کی کہکشاں پروین نے وقفہ صفرکے دوران قومی شاہراہوں پر بیت الخلاء نہ ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے خواتین کو کافی زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا صاف ہندوستان ، صحت مند ہندوستان کا خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہو پائے گا جب اس مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔پروین نے حکومت سے قومی شاہراہوں پر ہر پانچ کلومیٹر کے فاصلے پراورٹول پلازہ پر بھی بیت الخلاؤں کے تعمیر کامطالبہ کیا ۔ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین نے کہا کہ یہ مطالبہ جائز ہے اور اس پرغورکیا جانا چاہیے ۔کانگریس کی رینوکا چودھری نے تلنگانہ کے کھم ضلع میں واقع کیندریہ ودیالیہ میں مستقل اساتذہ کی کمی کامسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ اسکول کے 24باقاعدہ اساتذہ میں سے 19کا تبادلہ کر دیا گیا اور اب وہاں صرف پانچ استاد رہ گئے ہیں۔رینوکا نے حکومت پر طنز کیا کہ اس طرح سے مضحکہ خیز اور من مانے طریقے سے اساتذہ کا تبادلہ کیا اس کی نئی تعلیمی پالیسی کا حصہ ہے۔بی جے پی کے ستیہ نارائن جٹیا نے مانسون کے دوران گاؤں کا رابطہ منقطع ہو جانے کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ کئی گاؤں میں بارش کے موسم میں ناگفتہ بہ صورت حال ہو جاتی ہے اور سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں بیماریاں پھیلنے پر علاج بھی مشکلات پیش آتی ہے۔جٹیا نے اس مسئلہ کے حل کے لیے وزیر اعظم دیہی سڑک منصوبہ کے تحت پلوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔کانگریس کے شانتا رام نائیک نے گوا کے مڈگاؤں بندرگاہ پر چل رہی ویسٹرن انڈیا شپ یارڈیونین کی ہڑتال کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے، ان کا پی ایف جمع نہیں کیاگیااورتنخواہ سے کاٹا گیا ٹیکس بھی انکم ٹیکس محکمہ میں جمع نہیں کیا گیا۔نائیک نے حکومت سے اس معاملے پر فوری طورپرمداخلت کا مطالبہ کیا۔
نامزد رکن سوپن داس گپتا نے مرکزی فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کی پالیسی سے متعلق موضوع کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کی مثال حال ہی میں آئی فلم ’اڑتا پنجاب‘ہے جس میں مرکزی فلم سرٹیفیکیشن بورڈنے89کٹ لگائے جبکہ ہائی کورٹ نے اسے صرف ایک کٹ کے ساتھ منظوری دے دی۔داس گپتا نے کہا کہ فلم سرٹیفیکیشن کے لیے سنسر شپ کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اورسنیمیٹوگرافک قانون کا جائزہ لیا جانا چاہیے ۔بی جے پی کے شویت ملک نے امرتسرمیں واقع شری گرورام داس جی انٹر نیشنل ہوائی اڈے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے شاندار یہ ہوائی اڈہ 2010تک بہت اچھی طرح کام کرتا رہا اور فائدہ مند رہا لیکن اس ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے والی ایئر لائنس کو سازش کے تحت نئی دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف موڑدیا گیا۔سی پی ایم کے ٹی کے رنگا راجن نے تعلیمی قرض کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی قرض لے کر طلبا اپنی تعلیم تو پوری کر لیتے ہیں لیکن انہیں ملازمت نہیں مل پاتی ہے ،جس کی وجہ سے وہ قرض کی ادائیگی نہیں کر پاتے۔دوسری طرف بینک قرضوں کی وصولی چاہتے ہیں،اس لیے اس مسئلے کا حل نکالا جانا چاہیے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قرضوں کی ادائیگی نہ کر پانے کی صورت میں تعلیمی قرض کو نان پرفارمنگ اسیٹ (این پی اے)نہ سمجھا جانا چاہیے ۔ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین نے اسے سنگین موضوع بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے علم میں بھی ایسے معاملات آئے ہیں اور ان کا حل نکالا جانا چاہیے ۔سماج وادی پارٹی کے جاوید علی خان نے قومی کونسل برائے فرو غ اردو زبان سے منسلک ایک مسئلہ اٹھایا۔


Share: