لکھنؤ، 20؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )رام جنم بھومی -بابری مسجد تنازعہ کے سب سے عمردراز مدعی ہاشم انصاری کے آج ہوئے انتقال سے مسلمانوں اور ہندوؤں سمیت پورے معاشرے میں رنج وغم کی لہر پائی جارہی ہے۔95سالہ انصاری کو بے حد قریب سے جاننے والے بابری مسجدایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جانے سے ایک بولتی ہوئی زبان خاموش ہو گئی، جو بابری مسجد معاملے پر میڈیا اور معاشرے میں اپنا احترام حاصل کر چکی تھی۔بابری مسجد تنازعہ کے وہ آخری بنیادی مدعی تھے۔انہوں نے کہا کہ انصاری دوسرے فریق کے لوگوں سے بات چیت بھلے ہی کرتے تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ اس سے رام جنم بھومی،بابری مسجد تنازعہ کا حل قطعی نہیں نکالا جا سکتا ہے۔وہ سوچتے تھے کہ چونکہ دوسرا فریق بات چیت کرکے لکھاپڑھی میں کوئی رضامندی نہیں دے گا، لہذا معاملہ صرف مقدمے سے ہی حل ہوگا۔انصاری کا دل سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے آج صبح انتقال ہو گیا۔1949سے بابری مسجد تنازعہ سے وابستہ95سالہ انصاری نے آج علی الصباح اجو دھیا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی۔جیلانی نے بتایا کہ انصاری نے ہی دنیا کو اجو دھیا معاملے سے باخبر کرایا تھا اور انہیں اپنی سائیکل کے کیریئر پر بٹھا کر متنازعہ مقام کا دورہ کرایا تھا۔1961میں سنی وقف بورڈ کی جانب سے اس معاملے کو لے کر دائر مقدمے میں وہ پانچویں نمبر کے مدعی تھے۔انہوں نے بتایا کہ 1958میں دفعہ 188کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد میں اذان دینے اور نماز پڑھنے پر انصاری کو دو ماہ کی سزا ہوئی تھی۔بعد میں انہوں نے ضلع جج کی عدالت میں اپیل کی تھی، جس کے حکم پر انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔اس درمیان، رام مندر تحریک کی اہم شریک تنظیم وشو ہندو پریشد(وی ایچ پی )کے ترجمان شرد شرما نے انصاری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کو انصاری سے سبق لینا چاہیے۔شرما نے کہا کہ انصاری کے خیالات شدت پسندوں سے مختلف تھے۔۔انصاری پانی کے بلبلے کی طرح تھے، جو وقت کے ساتھ ضم ہو گئے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سینئر رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے انصاری کے انتقال پر دکھ کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کے سلسلے میں سب سے قدیم مدعی رہے انصاری نے شروع سے لے کر اپنی آخری سانس تک بابری مسجد کی جنگ کو ایک جمہوری طریقے سے لڑا اور جدوجہد جاری رکھی ، اس کے لیے پوری قوم انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ انصاری نے کئی بار ہندو فریق کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے ہمیشہ کے لیے اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی، مگر افسوس کہ کامیابی نہیں ملی ،لیکن ایودھیا میں آج بھی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو بھائی بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انصاری نے بابری مسجد معاملے پر قانونی راستہ اختیار کیا اور کبھی کوئی سیاست نہیں کی۔شری کالکی پیٹھاکے صدر آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ انصاری ایک سچے محب وطن تھے۔انہوں نے ہمیشہ اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی مضبوطی کے لیے کام کیا۔ان کا انتقال ایسے وقت میں جب لوگ مذہب کے نام پر نفرت پھیلا رہے ہیں، یقیناًاس ملک کے لیے افسوسناک ہے۔انہوں نے کہاکہ میں بھگوان سے دعا کرتا ہوں کہ ان کی روح کو تسکین عطاکرے ۔یہ ملک ہاشم انصاری جیسے لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا، ان کے جانے سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں میں بھی ماتم پھیل گیا ہے۔اس درمیان، اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے انصاری کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔اکھلیش نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم انصاری کی روح کی تسکین کے لیے دعا کرتے ہوئے عم زدہ لواحقین کے تئیں اپنی دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔