مدھیہ پردیش میں گؤکشی کے الزام میں دومسلم خواتین کی پٹائی،ڈاکٹروں نے کہا،گوشت گائے کانہیں تھا
نئی دہلی27جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )بیف کی افواہ کے چلتے مدھیہ پردیش میں فرقہ پرستوں کی بھیڑکی طرف سے دو مسلم خواتین پر حملہ کرنے کی ویڈیو سامنے آنے کا معاملہ بدھ کو پارلیمنٹ میں گونجا۔اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے درمیان تیکھی تکرار ہوئی۔اتر پردیش کی سینئر سیاستدان مایاوتی نے معاملے میں مرکزی وزیر مختار عباس نقوی سے مخاطب ہوتے ہوئے سوال داغا’’سر نقوی، میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں۔آپ کی کمیونٹی کی خواتین پرحملہ کیاجا رہاہے۔ایوان میں آپ کو جواب دیناچاہئے۔ گؤرکشاکے نام پرمسلم خواتین پر حملہ کیا جا رہا ہے۔یہ شرمناک اور ناقابل قبول ہے۔یوپی کی سابق وزیر اعلیٰ نے کہاکہ بی جے پی ایک طرف تو لڑکیوں کو تحفظ دینے کی بات کرتی ہے، وہیں اس سے حکومت ریاست میں خواتین کی پٹائی کی جا رہی ہے۔اس دوران اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کے دلت اور خواتین مخالف ہونے کے نعرے لگائے۔مایاوتی کے سوال پر نقوی نے کہاکہ ہمارا ماننا ہے کہ ملک آئین اور قانون سے چلتا ہے، ڈنڈوں سے نہیں۔ایسا کوئی بھی واقعہ قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔ ریاستی حکومت نے اس بارے میں کارروائی کی ہے۔اپوزیشن نے ایک بار پھر اس کی مخالفت کی۔اپوزیشن کا کہنا تھا کہ جن خواتین پر حملہ کیا گیا انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ مشتعل ہجوم یا ان پولیس والوں پر کارروائی نہیں ہوئی،جو واقعہ کے وقت موجود تھے لیکن عورتوں کو بچانے کیلئے کچھ نہیں کیا۔کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے کہاکہ ہم گائے کی حفاظت کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اس کی آڑ میں دلتوں اور اقلیتوں کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔غور طلب ہے کہ بھیڑ نے منگل کومدھیہ پردیش کے مندسور کے ریلوے اسٹیشن پردومسلم خواتین کو بری طرح مارا پیٹا اور انہیں برا بھلا کہے۔موبائل فون سے تیار ویڈیو میں دکھائی دے رہا ہے کہ اس موقع پر موجود لوگوں نے ان خواتین کے دفاع میں کچھ نہیں کیا۔یہاں تک کہ پولیس اہلکار بھی بھیڑ کو کنٹرول کرنے کی’’آدھی ادھوری کوشش‘‘کرتے نظر آئے۔ان خواتین کو 30کلو گوشت لے کر چلنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔تاہم مقامی ڈاکٹروں کے مطابق یہ گوشت گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا تھا۔