ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آسام: حراستی مرکز میں انتظامات کی خرابی کے خلاف 100 سے زائد روہنگیا بھوک ہڑتال پر

آسام: حراستی مرکز میں انتظامات کی خرابی کے خلاف 100 سے زائد روہنگیا بھوک ہڑتال پر

Wed, 11 Sep 2024 11:19:09    S.O. News Service

گوہاٹی، 11/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاستی محکمہ داخلہ کے ایک افسر نے اسکرول کو بتایا کہ میانمار اور چن سے تعلق رکھنے والے 100 سے زیادہ روہنگیا اور چن پناہ گزین، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، نے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ ان پناہ گزینوں کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی طرف سے پناہ گزین کارڈ فراہم کیے گئے ہیں، اور وہ اقوام متحدہ کی پناہ گزین کمشنر سے مدد کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ ان کے معاملات حل کیے جا سکیں اور انہیں کسی تیسرے ملک میں بسانے کا انتظام کیا جا سکے۔ یہ پناہ گزین اس وقت آسام کے گول پارا ضلع کے حراستی مرکز میں موجود ہیں، جو کہ ہندوستان کا سب سے بڑا حراستی مرکز ہے۔ آسام کے چیف سکریٹری روی کوٹا نے اسکرول کو بتایا کہ قیدیوں کے انسپکٹر جنرل اور داخلہ سکریٹری حقیقت جاننے کے لیے کیمپ کا دورہ کر رہے ہیں۔ اسکرول نے انسپکٹر جنرل سے رابطے کی کوشش کی ہے تاکہ ان کا موقف معلوم کیا جا سکے۔

35 میانمار کے شہریوں نے جنہیں حراست میں لیا گیا تھا، ضلع انتظامیہ کو ایک خط پیش کرکے انہیں کسی تیسرے ملک میں آباد کرنے یا ہندوستان کے کسی اور مرکز میں منتقل کرنےکا مطالبہ کیا ، اسکرول نے اس خط کا مشاہدہ کیا ہے، جسے ضلع انتظامیہ نے آسام کے محکمہ داخلہ کو ارسال کر دیا۔ان پناہ گزینوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا بیان ہے کہ ان میں سے بیشتر افراد نے اپنی سزا مکمل کر لی ہیں،اور انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اقوام متحدہ کی پناہ گزین ادارے کے حوالے کیا جائےجس نے انہیں پناہ گزین کی حیثیت تفویض کی تھی۔ایک اورجانکار شخص نے بتایا کہ’’ انہوں نے پر امن طور پر بھوک ہڑتال کی ہے وہ مرنے سے نہیں ڈرتے۔‘‘ 

اس شخص نے مزید کہا کہ چونکہ ہندوستان نے پناہگزین قرارداد پر دستخط نہیں کئے ہیں لہٰذا اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کو ہندوستان تسلیم نہیں کرتا ہے۔لیکن حکومت پناہ گزین ادارے کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ان پناہ گزینوں کا واحد مطالبہ ہے کہ ریاستی محکمہ انہیں اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کے حوالے کرے۔1951 قرار داد کے مطابق دستخط کرنے والے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ پناہ گزین کا مرتبہ حاصل کرنے والوں کے حقوق کو تسلیم کرے۔اس شناسا شخص نے یہ بھی بتایا کہ مرکز میں ملنے والا کھانہ غیر معیاری ہے جیسا کہ سپریم کورٹ میں 14 اگست کو رپورٹ داخل کی گئی تھی۔اس کے مطابق اس حراستی مرکز میں فراہم کی گئی سہولیات انتہائی ناقص ہیں جہاں پانی کی ناکافی فراہمی، صاف صفائی کا ناقص انتظام، اور طہارت کا بھی نا معقول انتظام ہے۔جولائی میں سپریم کورٹ نے بھی اس حراستی مرکز کی حالت زار پر تبصرہ کیا تھا۔ 

یہ مرکز جنوری2023 میں اس وقت زیر عمل آیا جب 211 پناہ گزین  جن میں 89 روہنگیا اور 32 چن کو رکھا گیا تھا، جو میانمار سے جان بچاکر ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔انہیں غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے کی پاداش میں سزا سنائی گئی تھی۔لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے پیر کو مرکزی وزارت داخلہ اور آسام حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ کس طرح211 بیرون ملک کے شہریوں کو جنہیں حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔اس سے قبل میانمار کے 200 پناہ گزینوں نے منی پور کے امپھال میں واقع حراستی مرکز میں بھوک ہڑتال کی تھی ، ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں امپھال کے باہر منتقل کیا جائے۔

روہنگیائوں کے حقوق کی تنظیم کے بانی صابر کیائو من کا کہنا ہے کہ’’ متعدد افرادکے پاس پناہ گزین کارڈ ہونے کے باوجود انہیں گرفتار کر لیا گیا ۔ یہ حراستی مرکز اقوام متحدہ نیلسن منڈیلا اصولوں کی پاسداری نہیں کرتے ، جس میں قیدیوں کے ساتھ کئے جانے والے کم از کم ضوابط درج ہیں۔ہم بطور روہنگیا اپنی جان بچا کر ہندوستان میں امان کی امید پر آئے تھے ، لیکن اب یہاں بھی ہم اپنے تحفظ کیلئے فکر مند ہیں۔‘‘ 


Share: