نئی دہلی، 11 دسمبر (آئی این ایس انڈیا) راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے دفعہ 370 کی منسوخی اور شہریت ترمیمی بل جیسے اہم مسائل پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہ لینے کے لئے نریندر مودی حکومت پر تنقید کی۔ ایک انٹرویو میں کانگریس لیڈر نے ملک میں اقتصادی بحران پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بی جے پی قیادت این ڈی اے حکومت کا ملک کو چلانے کیا رویہ اچھا نہیں ہے۔گہلوت نے کہا کہ جمہوریت میں لوگوں کی رائے کو دبا کر، حکومت کیخلاف عدم اطمینان کو غداری کے مقدمہ جات میں الجھا کریا لوگوں کو ملک مخالف بتا کر دبایا نہیں جاسکتا۔انہوں نے مودی حکومت پر گڈ گورننس پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے تقسیم کی سیاست کرنے اور انکم ٹیکس کی’چھاپہ ماری‘ کی دھمکی دے کر اپوزیشن جماعتوں کو دیا جانے والا چندہ روکنے کا الزام لگایا۔گہلوت نے یہ بھی الزام لگایا کہ انتخابی بانڈ این ڈی اے حکومت کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے۔ایک سال پہلے راجستھان کے وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالنے والے گہلوت نے کہا کہ آرٹیکل 370 ہٹانے یا شہریت ترمیمی بل”CAB“ کے لئے اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا/ اپوزیشن کو اس میں شامل کیا جانا تھا، کم از کم اپوزیشن اپنے خیال پیش کرسکتا تھا۔ واضح ہو کہ اس متنازعہ شہریت ترمیمی بل کو پیر نصف شب میں لوک سبھا میں منظور کر دیا گیا۔گہلوت نے کہا کہ بی جے پی کی پہلے پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت تھی لیکن (آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد) جموں و کشمیر میں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا۔کانگریس کے 68 سالہ رہنما نے کہا کہ مرکز کو ان سے بات کرنی چاہئے تھی لیکن حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے، اگر آپ کے پاس اچھی خاصی اکثریت ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنی مرضی چلا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک کو بحران میں ڈال رہے الگ الگ مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے 14 دسمبر کو نئی دہلی میں ایک ریلی منعقد کرے گی۔