مینگلور: یکم اکتوبر (ایس او نیوز) قریبی تعلقہ سولیا میں دکشت گوڈا کے بعد اب ستیش اچاریہ کے بیان سے فرقہ پرست طاقتوں کو اُس وقت منہ کی کھانی پڑی ہے کہ جب ستیش اچاریہ نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خلاف جو پروپگینڈہ کیا گیا تھا کہ اُس نے اپنا مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کیا ہے، اُس میں کوئی سچائی نہیں ہے، سب کے سب جھوٹ پر مبنی باتیں ہیں اور ان باتوں کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
خیال رہے کہ کچھ دن پہلے سوُلیا میں ہندتووادی تنظیموں نے مسلمانوں کی طرف سے ہندونوجوانوں کا مذہب تبدیل کرکے انہیں اسلام میں داخل کروانے کا الزام لگاتے ہوئے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اس ضمن میں ستیش اچاریہ اوردکشت گوڈا کے نام خاص طور سے لئے جارہے تھے کہ انہیں تبدیلیئ مذہب کے ذریعے مسلمان بنا دیا گیا ہے۔
ان فرقہ پرست تنظیموں کو اُس وقت پہلا جھٹکا لگا تھا جب دکشت گوڈا نے چند دن قبل خود بیان جاری کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ کسی نے اس کو مسلمان نہیں بنایا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کے رویے سے ناراض ہوکر گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ اس سے ہٹ کر مذہب تبدیل کرنے اور اسلام میں داخل کرنے یا کسی کی طرف سے اس طرح کا اس پر دباؤ بنائے جانے کی باتیں صرف افواہیں ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
اب ایک بار پھر فرقہ پرستوں کو منھ کی کھانی پڑی ہے کیونکہ ستیش اچاریہ نے بھی خود پولیس اسٹیشن پہنچ کر اپنا بیان درج کروایا ہے کہ اس کے مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرنے کی بات بھی جھوٹ اور افواہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وہ اب بھی ہندو مذہب کا ہی پیروکار ہے۔اس کے علاوہ اس پر سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی جھوٹ پر مبنی ہیں۔ وہ اس طرح کی سرگرمیوں میں نہ کبھی ملوث رہا ہے اور نہ کبھی ہوسکتا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوجانے کے شبہ میں ہندتووادی شدت پسندوں نے اسی ستیش اچاریہ کی پیٹائی بھی کی تھی جس کے بعد اسے اسپتال میں داخل کرنا پڑا تھا۔