ترکی اور قطری فوج کی مشترکہ مشقیں شروع

Source: S.O. News Service | Published on 3rd August 2017, 7:10 PM | عالمی خبریں | خلیجی خبریں |

استنبول،3اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)خلیجی ریاست قطر اور ترکی کی فوج کی مشترکہ مشقیں منگل سے دوحہ میں جاری ہیں۔ آٹھ اگست تک جاری رہنے والی ان فوجی مشقوں میں 250ترک فوجی اور 30بکتر بند گاڑیاں حصہ لے رہی ہیں۔ترک میڈیا کے مطابق ترکی کا ایک فریگیٹجوکوفا چند روز قبل 214فوجیوں کو لے کردوحا پہنچا تھا۔ ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن این ٹی وی  کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز سے جاری مشترکہ فوجی مشقوں میں بری فوج کے دستے بھی جلد شامل ہوں گے جب کہ مشقوں کے آخری دو ایام میں سات اور آٹھ اگست کو دونوں ملکوں کی عسکری قیادت بھی ان مشقوں کا معائنہ کرے گی۔

خیال رہے کہ پانچ جون 2017ء کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے قطر سے سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے۔ ان ملکوں نے قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی، مالی مدد اور ایران سے قربت کا الزام عاید کیا ہے تاہم قطر ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔ استنبول کو ایک طرف خطے کی موثر طاقتوں بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھنے ہیں اور دوسری جانب اسے قطر جیسے نظریاتی حلیف کوبھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔ترکی نے قطر میں اپنا ایک فوجی اڈہ بھی قائم کیا ہے جس میں کم سے کم 150ترک فوجیوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

روہنگیا کے خلاف بدھ بھکشوؤں کا مظاہرہ

اتوار کے روز ہزاروں سخت گیر نظریات کے حامل بدھ بھکشوؤں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظاہرے میں مطالبہ کیا کہ علاقہ چھوڑ کر جانے والے روہنگیا کو قبول نہ کیا جائے۔

عاسکر فرنانڈیز کریں گے منکی کو اڈوپٹ ؛ منکی کی بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے اتحاد و ملن پروگرام میں اعلان

منکی کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور منکی والوں کے ساتھ بھی میرے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں، شیرور کو میں نے اڈوپٹ کیا تھا اور اپنے فنڈ سے شیرور میں ترقیاتی کام کئے تھے، اب میں منکی کے بنیادی مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دینے منکی کو اپنے اختیار میں لے رہا ...

ولی عہد دبئی کی جانب سے’فٹ نس چیلنج‘ میں شرکت کی دعوت

متحدہ عرب امارات کی قیادت بڑے بڑے چیلنجز کا خود مقابلہ کرنے کے ساتھ مملکت کے عوام اور امارات میں مقیم شہریوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں زندگی کے ہرشعبے میں آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔