شاہ سلمان جمعرات کو روس کا دورہ کریں گے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd October 2017, 12:44 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

ماسکو،2؍ اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )کِرملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز جمعرات کے روز روس کا دورہ کریں گے۔ روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ٹاس نے اوشاکوف کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ "ہم پانچ اکتوبر کو شاہ کی آمد کے منتظر ہوں گے"۔یہ دورہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے اجلاس سے ایک ماہ قبل کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں تیل کی پیداوار کی سطح کم رکھنے کی مدت میں توسیع کو زیر بحث لایا جائے گا جس کے نتیجے میں قیمتوں میں بہتری آئی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اوپیک کا سب سے بڑا رکن ہے۔اس سے قبل گزشتہ ربس کے اختتام پر اوپیک تنظیم اور اس کے باہر تیل پیدا کرنے والے ممالک نے چھ ماہ تک کے لیے تیل کی یومیہ پیداوار میں 18 لاکھ بیرل کی کمی پر اتفاق رائے کا اظہار کیا تھا۔یاد رہے کہ ستمبر 2016 میں چین میں جی 20 کے سربراہ اجلاس کے ضمن میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور روسی صدر کے ولادیمر پیوتن کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات میں دونوں شخصیات نے باور کرایا تھا کہ تیل کے شعبے میں سعودی عرب اور روس کے درمیان تعاون سے تیل کی عالمی منڈیوں کو نفع حاصل ہو گا

ایک نظر اس پر بھی

عاسکر فرنانڈیز کریں گے منکی کو اڈوپٹ ؛ منکی کی بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے اتحاد و ملن پروگرام میں اعلان

منکی کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور منکی والوں کے ساتھ بھی میرے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں، شیرور کو میں نے اڈوپٹ کیا تھا اور اپنے فنڈ سے شیرور میں ترقیاتی کام کئے تھے، اب میں منکی کے بنیادی مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دینے منکی کو اپنے اختیار میں لے رہا ...

ولی عہد دبئی کی جانب سے’فٹ نس چیلنج‘ میں شرکت کی دعوت

متحدہ عرب امارات کی قیادت بڑے بڑے چیلنجز کا خود مقابلہ کرنے کے ساتھ مملکت کے عوام اور امارات میں مقیم شہریوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں زندگی کے ہرشعبے میں آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

روہنگیا کے خلاف بدھ بھکشوؤں کا مظاہرہ

اتوار کے روز ہزاروں سخت گیر نظریات کے حامل بدھ بھکشوؤں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظاہرے میں مطالبہ کیا کہ علاقہ چھوڑ کر جانے والے روہنگیا کو قبول نہ کیا جائے۔