ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شیر ہمیشہ شیر رہتا ہے: وجے نے 2026 کے انتخابات میں DMK اور BJP سے اتحاد کے امکان کو مسترد کیا

شیر ہمیشہ شیر رہتا ہے: وجے نے 2026 کے انتخابات میں DMK اور BJP سے اتحاد کے امکان کو مسترد کیا

Thu, 21 Aug 2025 19:50:09    S O News

مدورائی، 21 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) اپنے سیاسی پارٹی کے دوسرے اسٹیٹ لیول کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشہور اداکار وجے نے اعلان کیا کہ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کا نہ تو بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اور نہ ہی دراوڑ منیترا کڑگم (DMK) کے ساتھ کوئی اتحاد ہوگا۔

جمعرات کی شام مدورائی میں ہزاروں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے وجے نے جذباتی انداز میں کہا: ’’شیر ہمیشہ شیر رہتا ہے‘‘۔ انہوں نے اپنی تقریر کو علامتی جملوں اور سیاسی پیغام سے بھرا اور پارٹی کارکنوں کو آنے والے انتخابات کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کی۔

وجے نے BJP کو "نظریاتی دشمن" اور DMK کو "سیاسی دشمن" قرار دیتے ہوئے ان دونوں پارٹیوں سے اتحاد کے امکانات کو یکسر خارج کردیا۔ انہوں نے کہا: ’’TVK کوئی ایسی پارٹی نہیں جو کسی سے ڈرے یا زیر زمین مافیا کاروبار میں ملوث ہو۔ پورے تمل ناڈو کی طاقت ہمارے ساتھ ہے۔ آؤ فسطائی BJP اور زہریلی DMK کے خلاف لڑیں۔‘‘

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’مجھے کسی غلام اتحاد میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا اتحاد کبھی خودغرض نہیں ہوگا بلکہ خودداری پر مبنی ہوگا۔‘‘ اس دوران مجمع سے زبردست تالیاں بجیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے وجے نے کہا کہ BJP نے تمل ناڈو کی ضروریات کو نظر انداز کیا ہے۔ ’’آپ ہماری اہم ضرورتوں کو پورا نہیں کر رہے  ہیں۔ آپ نے آر ایس ایس کے ساتھ اتحاد کیا ہے یؤاپنے مفاد کے لیے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ 2029 تک آسانی سے اقتدار میں رہیں گے۔ لیکن یاد رکھیں، پانی کی بوند کنول کے پتے پر نہیں ٹکتی۔ تمل عوام BJP کے ساتھ نہیں جڑیں گے۔ آپ کیزدھی (Keezhadi) کی تحقیقات کو چھپا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’ہمارے تمل ماہی گیر گرفتار کیے گئے ہیں، براہِ کرم کچاتھی وو (Katchatheevu) ہمارے ماہی گیروں کو واپس دیں۔ ہمیں NEET نہیں چاہیے، اسے ختم کریں۔‘‘ ساتھ ہی BJP پر اقلیتوں کے خلاف تعصب کا بھی الزام لگایا۔

پہلی بار وجے نے AIADMK پر بھی تنقید کی اور MG رام چندرن (MGR) کی وفات کے بعد پارٹی کی قیادت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا: ’’وہ پارٹی جسے MGR نے بنایا، آج اس کا تحفظ کون کر رہا ہے؟ پارٹی کی موجودہ حالت کیا ہے؟ مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ پھر BJP سے تعلقات پر طنز کرتے ہوئے کہا: ’’جب بھی چھاپے پڑتے ہیں، وہ دہلی جا کر مودی جی سے ملتے ہیں، اور اس کے بعد معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ کیا آپ نے یہ نوٹس کیا؟‘‘

حکمراں DMK پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کو براہِ راست چیلنج کیا: ’’اسٹالن انکل، صرف خواتین کو ہزار روپے دینا کافی ہے؟ کیا آپ ان روتی ہوئی خواتین کی آوازیں سن رہے ہیں؟ یہ بہت غلط ہے انکل، بہت غلط۔ آپ خواتین، پرندور (Parandhur) کے کسانوں اور ماہی گیروں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔‘‘
وجے نے اپنے سیاسی سفر کو بیان کرتے ہوئے کہا: ’’شیر ہمیشہ منفرد ہوتا ہے۔ اگر وہ ایک بار دھاڑتا ہے تو اس کی آواز آٹھ کلومیٹر تک گونجتی ہے۔ جنگل میں کتنے ہی گیدڑ ہوں لیکن شیر ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، وہی جنگل کا بادشاہ ہے۔ شیر ہمیشہ شیر رہتا ہے۔ یہ ایک صاف اعلان ہے۔‘‘

انہوں نے عندیہ دیا کہ ان کی پارٹی 2026 کے انتخابات میں تمام حلقوں سے امیدوار کھڑا کرے گی۔ ’’میں مدورائی ایسٹ، مدورائی ساؤتھ، اوسلمپٹی، میلور—پوری مدورائی میں کھڑا ہوں گا۔ میں تمام 234 سیٹوں پر کھڑا ہوں گا۔‘‘

مدورائی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’جب بھی مدورائی آتا ہوں تو مجھے آلنگنلّور جلی کٹو، مدورائی میناکشی اممن اور ویگائی ندی یاد آتی ہے۔ مجھے یہاں کے کیپٹن وجے کانتھ کے ساتھ بھی کئی مواقع پر قریب سے کام کرنے کا موقع ملا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ 2026 میں 1967 اور 1977 کے انتخابات کی تاریخ دہرانے والی ہے۔

اپنے سیاسی سفر پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے وجے نے کہا: ’’میرے سیاست میں آنے سے پہلے کہا گیا کہ میں کبھی نہیں آؤں گا۔ جب میں نے پارٹی شروع کی تو کہا گیا کہ یہ کافی نہیں اور عوام ووٹ نہیں دیں گے۔ جب میں نے پہلی میٹنگ کی تو کہا گیا کہ یہ بسسی آنند کے ساتھ تھی اور میں شوٹنگ سے سیدھا آیا تھا۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’میں اپنی مارکیٹ کھو کر سیاست میں نہیں آیا۔ میں دل سے کہتا ہوں کہ میں عوام کو پسند کرتا ہوں، ان کی عزت کرتا ہوں، ان کی عبادت کرتا ہوں۔ عوام نے جو مجھے دیا، وہ میں کبھی واپس نہیں دے سکتا۔ میری زندگی کا مقصد صرف عوام کے ساتھ رہنا ہے۔ یہ میرا پیشہ ہے اور اب میرا کوئی دوسرا کام نہیں۔‘‘

انہوں نے اپنی تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا: ’’اہم یہ ہے کہ سیاسی لیڈر ایماندار ہو، یہ نہیں کہ وہ پہلے اداکار تھا یا نہیں۔ ہر سیاستدان ہوشیار نہیں ہوتا اور ہر اداکار بے وقوف نہیں ہوتا۔‘‘


Share: