بابری مسجد کی 29ویں یوم شہادت پر ایس ڈی پی آئی نے بھٹکل سمیت ملک کے کئی شہروں میں کیا احتجاجی مظاہرہ

Source: S.O. News Service | Published on 7th December 2021, 11:12 PM | ملکی خبریں | ساحلی خبریں |

بھٹکل،7؍دسمبر(ایس او نیوز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بابری مسجد کی 29ویں یوم شہادت پر "بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی" عنوان  کے تحت بھٹکل سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا۔ جس میں خواتین سمیت ہزاروں پارٹی کارکنان اور عوام شریک رہے۔

بھٹکل میں منی ودھان سودھا کے باہر منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں ایس ڈی پی آئی کے لیڈران نے مختلف قسم کی نعرے بازی کی اور کہا کہ  بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر تک جدوجہد جاری رہے گی۔

ملک کے دیگر شہروں میں بھی ایس ڈی پی آئی نے مظاہرے کئے جس میں مقررین نے اپنی تقریر میں کہا کہ22,23دسمبر 1949کی درمیانی رات مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے شناخت شدہ مجرموں کے ایک گروہ نے بابری مسجد میں مورتیاں رکھی تھی تاکہ اس جھوٹ کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر اس جگہ پر قبضہ کیا جاسکے اور کہا جاسکے کہ  وہاں رام کی پیدائش ہوئی تھی۔

ایس ڈی پی آئی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بابری مسجد کی شہادت پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 6دسمبر 1992کو ہندوتوا کے غنڈوں نے دن کے اجالے میں بابری مسجد کو شہید کردیا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے یقین دلایا تھا کہ مسجد اسی جگہ پر تعمیر کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے9نومبر2019کواجودھیا میں مسجد میں مورتیاں رکھے جانے اور مسجد کی شہادت کو غیر قانونی فعل قرار دیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا تھا، لیکن حتمی فیصلہ میں رام مندر کی تعمیر کا حکم دیدیا گیا۔

ریلیز کے مطابق عبادت گاہوں کا ایکٹ 1991کسی کو بھی دوسروں کی عبادت گاہوں پر حملہ کرنے، زبردستی داخل ہونے، تبدیل کرنے، تباہ کرنے اور ان پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ بابری مسجد کا فیصلہ ہندوستان کی آئین کے اصولوں کے خلاف تھا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ خود کہتا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر سے قبل مندر کو گرایا گیاتھا۔ پھر بابری مسجد کی زمین مندر ٹرسٹ کو کیوں دی گئی؟۔یہ سراسرناانصافی ہے۔ہر دستاویز، کاغذات اور گواہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ بابری مسجد اس سر زمین پر بنائی گی تھی جہاں کوئی مندر یا کوئی عبادت گاہ نہیں تھی۔تباہی، انتشار، فرقہ وارانہ منافرت اور خونریزی کی سازش کے حق میں فیصلہ کیسے دیا جاسکتا ہے؟۔

ایس ڈی پی آئی کے مطابق بابری مسجد معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک بہت بڑی ناانصافی اور آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایک اور دھوکہ تھا۔ واضح شواہد کے باوجود کہ مسجد اس سرزمین پر تعمیر کی گئی تھی جہاں کوئی مندر موجود نہیں تھااور مندر کو مسمار کر نے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ فیصلے میں بابری مسجد کی اراضی کو ہندوتوا گروپوں کو دیدیا گیا۔ جو ناانصافی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کا انہدام ایک جرم تھا لیکن اس کو منہدم کرنے والے مجرموں کو سزا کا ذکر نہیں کیاگیا۔ لہذا، فیصلہ نامکمل ہے۔ بابری مسجد انہدام کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے،بابری مسجد معاملے میں انصاف کے حصول کیلئے ایس ڈی پی آئی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ایس ڈی پی آئی بابری مسجد کوآنے والی نسل تک لے جائے گی اور اس ناانصافی کو کھبی فراموش کرنے نہیں دیگی۔ جب تک بابری مسجد اسی جگہ نہیں تعمیر ہوتی ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

ایئر انڈیا نے کیا 5 جی معاملہ پر امریکہ کے لئے پروازوں میں تخفیف کا اعلان

ایئرانڈیا سمیت کئی بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں نے 5جی موبائل فون سروس اور پیچیدہ ہوا بازی ٹیکنالوجیز کے درمیان مداخلت کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کے باعث بدھ سے امریکہ کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ اس نے دہلی سے امریکہ میں سان فرانسسکو، شکاگو اور جے ایف کے ...

اعظم خان رامپور سے میدان میں، بیٹے کو بھی ٹکٹ۔اعظم خان رامپور شہر سیٹ سے 9 مرتبہ فتح حاصل کرچکے ہیں،فی الحال یہاںسے رُکن پارلیمنٹ ہیں،بیٹے عبداللہ اعظم سوار ٹانڈہ سے قسمت آزمائیں گے

سماج وادی پارٹی نے رامپور ضلع کی پانچوں اسمبلی سیٹوں سے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا ہےجس میں سب سے بڑا اور اہم نام پارٹی کے قد آور مسلم لیڈر اور موجودہ رکن پارلیمنٹ اعظم خان کا ہے۔

ہندوستان میں مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں، کورونا کو روکنے کیلئے موجودہ اقدامات کافی، مکمل لاک ڈاؤن سے فائدے کم، نقصانات زیادہ:ڈبلیو ایچ او

ہندوستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے باوجود فی الحال مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے- یہ بات ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او)نے کہی -

علی گڑھ شہر سمیت ضلع کے 7 اسمبلی حلقوں میں سے 4 پر کانگریس امیدوار انتخابی میدان میں

اپنی گنگا-جمنی تہذیب کے لئے دنیا بھر میں مشہور علی گڑھ ضلع کی سات اسمبلی نشتوں میں سے پہلے انتخابی مرحلے کے لئے چار پر امیدواروں کا اعلان ہو چکا ہے، جبکہ باقی تین حلقوں چھرہ، اگلاس و کھیر اسمبلی حلقوں میں امیدواروں کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔

اومیکرون کا سخت پلٹ وار، اب حاملہ خواتین کو بھی بنانے لگا ’نشانہ‘

ملک میں کرونا کی پہلی ، دوسری اور اب تیسری لہر کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ دریں اثنا تخلیق شدہ نئی قسم اومیکرون بھی دنیا کو پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہلی میں بھی اس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے،

اترکنڑا میں کورونا متاثرین میں اضافہ : جاترے، میلے ، اتسوا اور ٹورنامنٹوں پر پابندی عائد کرنے ضلع نگراں کار وزیر کی ہدایت؛ بھٹکل میں کورونا ٹیکہ کاری میں کمی پر ظاہر کی تشویش

اترکنڑا ضلع میں دن بدن کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہورہاہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے جاترا اور اتسواوغیرہ کو بغیر کسی  رعایت کے پابندی عائدکرنے اور انہیں ملتوی کرنے ضلع نگراں کارو زیر شیورام ہیبار نے ضلع انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں۔

کاروار: نارائن گروکے مجسمہ کو یوم جمہوریہ میں قبول کرنے سے انکار کرنے پر آریہ اور اِڈگا طبقے میں ناراضگی

مرکزی حکومت  نے اس مرتبہ یوم جمہوریہ کی تقریب میں نارائن گرو کے مجسمے کو شامل کرنےسے انکارکیا ہے جس پر آریہ اور اِڈگا (نامدھاری) طبقات میں  سخت ناراضگی پائی جارہی ہے، ایسے میں ان طبقات کے لیڈران نے  مرکزی حکومت پر نا انصافی کئے جانے کا الزام لگایا ہے۔

گوا میں واسکو ڈی گاما ہوڑہ ۔ امراوتی ایکسپریس پٹری سے اترگئی؛ سبھی مسافر محفوظ

گوا کے دودھ ساگر اور کارنجول کے درمیان  واسکودی گاما ہوڑہ۔ امراوتی ایکسپریس  پٹری سے اُترنے کی  واردات پیش آئی ہے، مگر حادثے میں  ٹرین میں سوار تمام مسافر محفوظ ہیں اور   کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔واردات منگل کی صبح تقریباً 9 بجے پیش آئی۔

بھٹکل : مرڈیشور میں 20 جنوری کو منعقد ہوگا رتھ اتسوا : اسسٹنٹ کمشنر نے جاری کیا نیا فرمان

بڑھتے ہوئے کورونا معاملات کا حوالہ دے کر دو تین دن قبل تعلقہ انتظامیہ کی طرف سے مرڈیشور رتھ اتسوا منانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کرنے کے بعد اب اسسٹنٹ کمشنر نے نیا حکم جاری کیا ہے جس کے تحت چند شرائط کے ساتھ رتھ تہوار 20 جنوری کو منانے کی اجازت دی گئی ہے ۔

سرسی :فوریسٹ مکینوں کے انخلاء کو لےکر جاری کئےگئے حکم نامےپر اتی کرم دار ویدیکے کے صدر کی کڑی مذمت

فوریسٹ زمین پر منحصر فوریسٹ مکینوں کے انخلاء کی کارروائی میں کسی بھی طرح کی تاخیر کئے بغیر فوری طورپر فوریسٹ مکینوں کو نکال باہر کرنےچیف فوریسٹ آفیسر بنگلورو نے جو حکمنامہ جاری کیا ہے، وہ  غیرقانونی ہے۔ اور ہم اس افسر شاہی کے تحکمانہ  پالیسی کی سخت مذمت کرتے ہیں،  یہ ...