حجاب تنازع پر سپریم کورٹ میں زور دار بحث جاری، آج پھر سماعت

Source: S.O. News Service | Published on 8th September 2022, 11:04 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی،7؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک ہائی کورٹ کے ذریعہ تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف داخل عرضی پر آج سپریم کورٹ میں زوردار بحث ہوئی۔ اسکول یونیفارم کے ساتھ مسلم طالبات کے ذریعہ حجاب کے استعمال کو لے کر کئی طرح کے سوالات اٹھائے گئے اور اس پر دلیلیں بھی پیش کی گئیں۔ جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سدھانشو دھولیا کی دو رکنی بنچ نے سماعت کے دوران حجاب پر پابندی کے خلاف عرضی داخل کرنے والے فریق کے وکیل سے کچھ تلخ سوال بھی کیے اور پھر اس معاملے میں آئندہ سماعت 8 ستمبر کو 11.30 بجے کرنے کا اعلان کیا۔

آج ہوئی سماعت کے دوران عرضی دہندگان کی طرف سے اپنی دلیل رکھنے والے وکیل دیودت کامت نے حجاب کو ’اظہارِ رائے کی آزادی‘ کا حصہ قرار دیا۔ اس پر بنچ میں شامل جسٹس گپتا نے کہا کہ ابھی آپ ’رائٹ ٹو ڈریس‘ کی بات کر رہے ہیں، تو بعد میں آپ ’رائٹ ٹو اَن ڈریس‘ کی بھی بات کریں گے، یہ بہت پیچیدہ سوال ہے۔ پھر وہ سوال پوچھتے ہیں کہ ’’اگر کوئی شلوار قمیض پہننا چاہتا ہے یا لڑکے دھوتی پہننا چاہتے ہیں، تو کیا اس کی بھی اجازت دے دی جائے؟‘‘ اس پر دیودت کامت نے کہا کہ ’’ہم یہاں یونیفارم کو چیلنج نہیں کر رہے، اور نہ ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی یونیفارم کی جگہ جینس یا کوئی دوسرا لباس پہن لے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی طالبہ اسکول یونیفارم پہنتی ہے، تو کیا حکومت انھیں اپنے سر پر اسکارف باندھنے سے روک سکتی ہے؟ یہاں ایسے حجاب یا جلباب کی بات نہیں ہو رہی ہے جو سر سے پاؤں تک انھیں ڈھانپتا ہو۔‘‘

بنچ کے سامنے اپنی بات رکھتے ہوئے دیودَت کامت نے کچھ غیر ممالک کا بھی تذکرہ کیا جہاں طالبات کو اسکارف پہننے کی اجازت دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’امریکہ، برطانیہ اور جنوبی افریقہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اسکول میں لڑکیوں کے شلوار قمیض اور اسکارف پہننے کا مسئلہ سامنے آیا تھا، جہاں اس کی اجازت دے دی گئی، لیکن جلباب کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ وہ سر سے پاؤں تک ڈھانپتا ہے۔‘‘ اس پر عدالت نے کہا کہ یہاں بحث اس بات کو لے کر ہو رہی ہے کہ کیا لڑکیوں کو ’مناسب رعایت‘ دی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس پر کامت نے کہا کہ یہ ایک ’بڑا قانونی مسئلہ‘ ہے جس کے لیے اسے پانچ ججوں والی آئینی بنچ کو منتقل کر دینا چاہیے۔

آخر میں جسٹس ہیمنت گپتا نے کہا کہ ’’ہم کل صبح 11.30 بجے سے پہلے متفرق معاملات کو ختم کر لیں گے، اور پھر ہم کل صبح 11.30 بجے اس (حجاب) معاملے پر سماعت شروع کریں گے۔‘‘ اس درمیان ایک مسلم اسکالر نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کی حمایت میں مداخلت کی کوشش کی، جس پر بنچ نے کہا کہ ’’ہم سب کو اجازت دیں گے۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

بجٹ 2023: ’کوئی امید نہیں، بجٹ ایک بار پھر ادھورے وعدوں سے بھرا ہوگا‘، سدارمیا کا اظہارِ خیال

یکم فروری کو مرکز کی مودی حکومت رواں مدت کار کا آخری مکمل بجٹ پیش کرنے والی ہے۔ مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ذریعہ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل بجٹ 2023 کو لے کر کانگریس کے کچھ لیڈران نے اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں۔

کرناٹک ہائی کورٹ کی وارننگ، کہا: چیف سکریٹری دو ہفتوں میں لاگو کرائیں حکم

کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو انتباہ دیا کہ اگر ریاستی حکومت دو ہفتوں کے اندر سبھی گاؤں اور قصبوں میں قبرستان کے لئے زمین فراہم کرانے کے اس کے حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ چیف سکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہوجائے گا ۔

منگلورو: محمد فاضل قتل میں ہندوتوا عناصر ملوث ہونے کا دعویٰ - اپوزیشن پارٹیوں نےکیا کیس کی دوبارہ جانچ کامطالبہ 

بی جے پی یووا مورچہ لیڈر پروین نیٹارو قتل کے بدلے میں عناصر کی طرف سے سورتکل میں محمد فاضل کو قتل کرنے کا کھلے عام دعویٰ کرنے والے وی ایچ پی اور بجرنگ دل لیڈر شرن پمپ ویل کے خلاف کانگریس ، جے ڈی ایس اور ایس ڈی پی آئی جیسی اپوزیشن پارٹیوں نے اس قتل کیس کی ازسر نو جانچ کا مطالبہ کیا ...

ٹمکورو میں اشتعال انگیز بیان دینے والے شرن پمپ ویل سمیت دیگر ہندوتوا لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ لے کر اے پی سی آر نے ایس پی کو دیا میمورنڈم

حال ہی میں ریاست کرناٹک کے  ٹمکور میں  منعقدہ شوریہ یاترا کے دوران وی ایچ پی لیڈر شرن پمپ ویل نے جو متنازع اور اشتعال انگیز بیان دیا  تھا ، اس پر کٹھن کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتارکرنے کا مطالبہ لے کر  ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سوِل رائٹس (اے پی سی آر) کے  ایک وفد نے ٹمکورو ...

کیرالہ کے ’بے باک‘ صحافی صدیق کپن جیل سے رہا،یو اے پی اے کو قرار دیا سیاسی آلہ

  سخت غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) اور منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت 27 ماہ سے جیل میں بند کیرالہ کے صحافی صدیق کپن جمعرات کی صبح لکھنؤ ڈسٹرکٹ جیل سے رہا ہوگئے۔ 

اڈانی گروپ کو ہنڈن برگ سے جھٹکا، 20 ہزار کروڑ کا ایف پی او منسوخ، پیسے واپس کرنے کا اعلان

اڈانی گروپ نے اپنے 20,000 کروڑ روپے کے ایف پی او یعنی فالو اپ پبلک آفر کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے کمپنی کے بورڈ نے ایف پی او کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

45.03 لاکھ کروڑ روپے کا عام بجٹ پیش ؛ مڈل کلاس کو راحت ،7لاکھ روپے کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں، ٹیکس سلیب میں بڑی تبدیلی

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بدھ کو پارلیمنٹ میں اگلے سال ہونے والے عام انتخابات سے قبل مودی حکومت کی دوسری مدت کے آخری مکمل بجٹ میں نوجوانوں، خواتین، غریبوں اور گاؤں کی ترقی پر زور دیا۔ 2023 -24 کا عام بجٹ جس میں ملازم متوسط طبقے کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

مرکزی بجٹ: موبائل فون سستے اور زیورات مہنگے

 مختلف قسم کے ٹیکسوں میں کمی کی وجہ سے دیسی موبائل فون اور ٹی وی سیٹ، ہندوستانی ساختہ کچن کی چمنیاں اور جھینگا فارمنگ کے لیے استعمال ہونے والی فیڈ سستی ہوجائیں گی جبکہ ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے درآمد شدہ کاریں، سائیکل، سونا- چاندی اور پلاٹینم کے زیورات اور مصنوعی زیورات مہنگے ...

’ہندوستان کے مستقبل کو لے کر حکومت کے پاس کوئی خاکہ نہیں‘، راہل گاندھی نے بجٹ 2023 کو بتایا ’متر کال کا بجٹ‘

مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے بدھ کے روز بجٹ 2023 پیش کیا جس پر اپوزیشن لیڈران لگاتار تنقید کر رہے ہیں۔ عام انتخاب سے قبل یہ موجودہ حکومت کا آخری مکمل بجٹ ہے۔