امیر شریعت سادسؒ ، نقوش و تاثرات :عروس جمیل در لباس حریر ۔۔۔۔۔ آز: فضیل احمد ناصری القاسمی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 7th April 2017, 1:01 AM | اسپیشل رپورٹس | اسلام | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

امارت شرعیہ(بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ)ہندوستان کے ان سرکردہ اداروں میں سے ہے،جن پر اہل اسلام کو ہمیشہ فخر رہا۔یہ روز اول سے ہی ملت اسلامیہ ہندیہ کی قیادت بہتر انداز میں کرتی رہی ہے، یہ ادارہ’’ مفکر اسلام‘‘ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃاللہ علیہ کے خوابوں کی تعبیر ہے، اس کاقیام 1921ء میں ہوا۔ اس کی تاسیس اور کارناموں پر اب صدی گزرنے کو ہے۔ حق جل مجدہ نے اس عظیم ادارے سے عظیم الشان کام لئے، اس کافیضان ہنوز جاری اور اس کا جلوہ آج بھی برقرار ہے۔برطانوی اقتدار والے ہندوستان جیسے مسلم اقلیتی ملک میں امارت اور وہ بھی شرعی امارت کا خواب دیکھنا بھی بڑی بات تھی، چہ جائے کہ اسے شرمندہ تعبیر کرلینا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب نے صحرا میں چاہ کنی کا نادر المثال کا رنامہ انجام دیا۔

امارت شرعیہ کادائرہ کار اگرچہ چند صوبوں تک محیط ہے، لیکن اس کے اثرات ملک وبیرون ملک تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں سے کئی ایسے کارنامے انجام پائے جن کی تعریف وتوصیف کے ساتھ تقلید بھی کی گئی۔ بلند نگاہ شخصیات اور کوہ قامت ہستیوں کے بغیر’’ آگ کے اس دریا کو عبور کرنا ‘‘ قطعا ممکن نہ تھا،ازل سے تا امروز یہی طریقہ رہا ہے کہ قدرت کسی ادارے سے بڑے کام لینا چاہتی ہے تو اسے مخلص ،سنجیدہ اور باکمال افراد مہیا کرتی رہتی ہے۔ اس کی تاریخ پر نظر ڈالئے تو ایک سے بڑھ کر ایک نابعہ یہاں خیمہ زن ملیں گے،حضرت مولاناسید منت اللہ رحمانیؒ اور حضرت مولاناقاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ وغیرہ۔ انہیں نوابغ میں ایک’’ قد آور نام‘‘ امیر شریعت سادس ’’حضرت مولانا سید نظام الدین‘‘ گیاویؒ کا ہے۔

حضرت مولانا سید نظام الدینؒ (ولادت31؍ مارچ1927ء: وفات17؍اکتوبر2015ء)بہار واڑیسہ وجھار کھنڈ کے چھٹے امیر شریعت تھے۔ ان سے پیش تر بالترتیب حضرت مولانا عبدالرحمنؒ ،حضرت مولانامنت اللہ رحمانیؒ ،حضرت مولانا قمرالدینؒ ، حضرت مولانامحی الدینؒ اورحضرت مولانا بدرالدینؒ امیر رہے ہیں۔ مولانا مرحوم1991ء سے1998ء تک نائب امیر شریعت، پھر1998ء سے تا حیات’’ امیر شریعت‘‘ کے عظیم ترین منصب پر فائز رہے۔1965ء سے1998ء تک آپ امارت شرعیہ کے ناظم بھی رہے۔

امیر شریعت کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی، وہ میدانی شخصیت تھے۔فعال وجواں عزم۔ ضعف ونقاہت کے باوجود ان کا سفری سلسلہ تادمِ مرگ جاری رہا۔ ملت کی فلاح وبہبود کے لئے وہ کہاں کہاں نہ پھرے۔ فاطر ہستی ..نے انہیں علم وعمل دونوں خوبیوں سے نوازا تھا، وہ مدرسہ امدادیہ دربھنگہ کے فیض یافتہ ، دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور ان اساتذہ کے صحبت یافتہ تھے جن کی کیمیا اثر نگاہیں تقدیریں بدل دیا کرتی تھیں۔ مرحوم کو خاکسار کے دادا حضرت مولانا مفتی محمود احمد ناصری(نستوی)کی شاگردی کا شرف بھی حاصل تھا۔1946ء میں دارالعلوم سے فراغت پائی اور1947 ء میں تخصص فی الادب کیا۔ سولہ برسوں تک انہوں نے مسند تدریس کو بھی رونق بخشی۔ مختلف تنظیموں اور اداروں سے ان کی وابستگی رہی۔متعدد اداروں کی سرپرستی بھی فرمائی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تاسیسی کے ساتھ1991ء سے تا وفات اس کے جنرل سکریٹری رہے۔

امیر شریعت جب تک حیا ت رہے، علما وعوام کے لئے باعثِ صد رشک رہے۔ خوب زندگی گزاری۔ ان کاطرز عمل اسلام کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا۔ رنجشوں اور تنازعات سے گریزاں رہتے۔ امیر شریعت رابع حضر ت مولانا منت اللہ رحمانی اور قاضی القضاۃ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب سے خوب جمی،ملت کے لئے سربہ کفن رہنا ان کا وظیفہ عمر تھا۔ بابری مسجد کی بازیابی میں ان کی کوششیں ناقابل فراموش ہیں۔ کم گو اور پر گو تھے۔دیدہ وراور دانش ور تھے۔ سوچ کر اور خوب تر فیصلے کرتے۔ ان کی چال چلن ، رہن سہن، ان کی ادائے دلبرانہ عجیب مقناطیسیت رکھتی۔ کم وبیش 89؍سال کی عمر پاکر2015ء میں آخرت کی راہ لی۔ان کے انتقال پر ملت بہت روئی۔ درد وکرب اور بے چینی واضطراب نے اسے بہت تڑپایا۔ تعزیتی جلسوں اور قرار داوں کا ایک طویل سلسلہ رہا۔ اخبارات نے ان کی موت کو عظیم خسارہ بتایا۔ اکابر امت نے ان کی وفات کو عظیم خلا سے تعبیر کیا۔شخصیتوں کے گزرنے کے بعد ان کی سیرت وسوانح پر کتابیں چھپنا عام بات ہے،یہ ہونا بھی چاہئے۔ یہی کتابیں پورے خدوخال کے ساتھ انہیں زندہ بھی رکھتی ہیں۔’’ شخصیت ناموں‘‘ سے جہاں صاحب سوانح کا مقام ومرتبہ اجاگر ہوتا ہے ،وہیں اس عہد کی علاقائی وملکی تہذیب ،معاشرت اور سیاسی حالات وواقعات بھی سامنے آجاتے ہیں۔امیر شریعت کے حالات زندگی پر بھی مواد کی شدید ضرورت تھی۔ ان کے چاہنے والے ان کی پوری زندگی پر نظر ڈالنا چاہتے تھے۔ مگر یہ کام بے حد مشکل اور کانٹوں پر چلنے جیسا تھا۔ مرحوم جس وضع اور انوکھی اداؤں کے مالک تھے، ان کے کارناموں کو اجاگر کرنا قطعی آسان نہیں تھا۔ وہ سراسر’’ اخفائی شخصیت ‘‘تھے۔ ان کے کارہائے شیشہ وآہن سے پردہ اٹھانا اور زندگی کے طویل دورانیے کی پر تیں ہٹانا خونِ گرم ، عز م جواں ا ورجوش جنوں کا متقاضی تھا۔ اللہ کا کرم کہ عزیزم’’ محمد عارف اقبال‘‘(ایم اے فائنل ائیر ،شعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی، دہلی)کی شکل میں ایک جواں سال،محنت کش اور سیال صاحبِ قلم سامنے آیا، جس نے طالب علمی ہی کے دور میں خدا معلوم کس کس طرح تنکے تنکے سے آشیانہ وہ بھی شاندار آشیانہ تعمیر کردیا۔

امیر شریعت پر دوکتابیں آئیں ۔ایک ان کی حیات میں اور دوسری پس از مرگ ۔پہلی کتاب ’’باتیں میر کارواں کی‘‘ اور دوسری ’’امیر شریعت سادس، نقوش وتاثرات ‘‘جو زیر تبصرہ ہے۔ اول الذکر نے مرحوم کے اوصاف وکمالات سے جس طرح نقاب کشائی کی، قارئین چونک گئے، اس میں ملک کی چوٹی کی شخصیتوں کے تحسین نامے بھی تھے۔ دونوں کتابوں کے مؤلف یہی محمد عارف اقبال دربھنگوی ہیں۔

زیر تبصرہ کتاب امیر شریعت کے کارناموں، ان کے بلند اخلاق، ان کی عالی ظرفی، روشن ضمیری، پاک نفسی، فراخ ذہنی، اولو العزمی اور ان کے حیرت انگیز شب وروز سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اس میں اکابر امت، درمیانی صف کے مستند اہل علم اور نوجوان خامہ برداروں کے مضامین،تاثراتی نظمیں،مرثیے اور اخباری تراشے جمع کئے گئے ہیں۔ ان تحریروں میں حضرت مرحوم کی ہشت پہلو شخصیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ با ب اول میں حالات زندگی اور کارنامے، باب دوم میں اداروں سے وابستگی باب سوم میں بزرگوں اور رفقا سے تعلق، باب چہارم میں ادبی خدمات، باب پنجم میں باتیں میر کارواں کی پر اہل علم وادب کے تاثرات اور باب ششم میں سانحہ ارتحال پر مضامین و مقالات شامل کئے گئے ہیں ۔ مقالہ نگاروں میں اکثر نام مشہور ہیں۔ سعودیہ عربیہ ،دیوبند، دہلی، لکھنو اور بہار کے معروف اصحاب قلم کی نگارشات اس کتاب کی زینت ہیں۔کتاب کے آغاز میں چودہ صفحات پر مشتمل مصنف موصوف کا بسیط’’ مقدمہ‘‘ ہے۔اس مقدمے میں کتاب کے پس منظر، اس کی ترتیب کی روداد، اکابرِ امت سے اپنا شوقِ ملاقات، اپنے محسنین و معاونین کی شکر گزاری اور حضرت امیر شریعت سے اپنے تعلقات کا اظہار ہے۔یہ حصہ مصنف کی صلاحیت و صالحیت اور بزرگانِ دین سے ان کی شیفتگانہ اداں کا آئینہ دار ہے۔کتاب کا یہ حصہ پڑھ کر بے ساختہ ان کے لیے دعا نکلتی ہے اور ان کے عزم و ولولے کو سلام کرنا پڑتا ہے۔مقدمہ کے بعد آٹھ دیگر شخصیات کی تاثراتی تحریریں ہیں، جن میں میرِ عصر ڈاکٹر کلیم عاجز، ادیبِ شہیر حضرت مولانا بدرالحسن صاحب کویت اور حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمن فتح پوری صاحب زیادہ نمایاں ہیں۔تالیف کے 54؍صفحات تک ایسے ہی مضامین ہیں، جن میں امیرشریعت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ مصنف کی’’کوہ کنی‘‘کی داد دی گئی ہے۔مجموعے کا مقصودی حصہ’’باب اول‘‘سے شروع ہوتا ہے۔اس حصے کے آغاز میں مؤلف موصوف کے قلم سے’’زندگی نامہ‘‘ہے، جس میں حضرت مرحوم کی حیاتِ طیبہ کے اہم گوشوں پر طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے۔اس باب میں اس کے علاوہ 30؍دیگر مضامین بھی ہیں، جن میں حضرت مرحوم کی مثالی زندگی پر ممتاز اہلِ قلم نے خوب دادِ تحقیق دی ہے۔یہ حصہ سب سے بڑا ہے اور کتاب کے 223؍صفحات تک مبسوط و منشورہے۔باب دوم میں اداروں سے وابستگی پر چھ خوب صورت مقالات ہیں۔ان میں بڑی وضاحت کے ساتھ دینی و ملی اداروں کے ساتھ حضرت کے والہانہ لگا پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔صفحہ 290؍سے 339؍تک تیسرا باب ہے۔اس باب میں مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندویؒ ، امیرشریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ ، قاضی القضا ۃ حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی ؒ اور برکۃ العصرحضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی سمیت 8؍اہم شخصیات سے مولانا کے قلبی لگا کو اور باہم احترام و تعلقات کو اجاگر کیا گیا ہے۔اس باب میں 8؍شان دار نگارشات ہیں۔باب چہارم کی شروعات 340؍سے ہو کر 419؍ پہونچتی ہے۔اس باب میں حضرت امیر شریعت کے ادبی پہلو پر بیش بہا مقالات ہیں۔حضرت مولانا سیدرابع حسنی ندوی، مولانا واضح رشید ندوی اور مرحوم ڈاکٹر کلیم عاجز کے خامہ عنبر شمامہ سے ان کی ادبی شخصیت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔یہ حصہ اہل ادب کے لیے خاصے کی چیز ہے۔اسی باب میں احقر فضیل احمد ناصری کا بھی ایک مضمون شامل ہے۔صفحہ 420؍سے 497؍تک پانچواں باب ہے۔اس باب میں خطوط، منظوم تاثرات، مقالات و رپورتاژ، مؤلف کی اولین کتاب’’باتیں میر کارواں کی‘‘کی رسم اجرا سے متعلق تفصیلات، اس پر اخبارات کے تراشے اور بعض رسالوں میں اس پر تبصرے درج ہیں۔باب ششم498؍سے 634؍تک پھیلا ہوا ہے۔اس باب میں حضرت امیر شریعت کی وفات پر چوٹی کی شخصیات کے تعزیت نامے شامل ہیں، جن میں ملک کے نائب صدر حامد انصاری، مولانا رابع حسنی ندوی، محترمہ سونیا گاندھی سمیت 7؍نمایاں نفوس ہیں۔اس کے بعد امیرشریعت کی وفات پر 22؍تاثراتی تحریریں ہیں، جن میں اصحاب قلم نے مرحوم سے اپنے لگاؤ، امت کے تئیں ان کی فکرمندی، حاضر دماغی، فکری بیداری اور حمیتِ دینی پر دل کھول کر خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔اس کے بعد 7؍شعراے کرام کے منظوم تاثرات بھی ہیں۔اخیر میں اخباری بیانات کے ایک وقیع ضمیمے کا الحاق بھی ہے۔کتاب کا اختتام مدرسہ امدادیہ دربھنگہ کے مختصر احوال و کوائف پر ہوتا ہے۔بہت کم بلکہ شاذ ونادر ہی لوگوں کو معلوم ہوگا کہ حضرت مرحوم اردو زبان وادب کا اعلی مذاق رکھتے تھے۔ انہو ں نے دارالعلوم میں طالب علمی کے دوران بزم سجاد کے دیواری پرچے ماہنامہ’’ البیان‘‘ کی ادارت بھی سنبھالی۔مسلم پرسنل لا بورڈ نے جب اپنا آرگن ’’خبر نامہ‘‘ شروع کیا تو ادارت کے لیے نظر انتخاب مولانا پر ہی پڑی۔مرحوم بلند پایہ شاعر بھی تھے، کتاب میں ان کے مذاق سخن پربھی متعدد مقالات موجود ہیں۔ حضرت مولانا رابع حسنی ندوی(لکھنو)اورمیر عصر ڈاکٹر کلیم احمد عاجز مرحوم جیسے رمز شناس ادیبوں کے رشحاتِ فکر بھی شامل ہیں۔’’شعر وسخن کا کوہِ طور ‘‘کے عنوان سے احقر فضیل احمد ناصری کا بھی نوصفحات پر مشتمل ایک مقالہ شریک ہے۔

کتاب اپنی معنوی خوبیوں کے ساتھ ظاہری کشش سے بھی خوب مزین ہے۔ بہتر ین کاغذ ، دیدہ زیب سرورق، خوب صورت سیٹنگ، عمدہ ڈیزائننگ اور معیاری طباعت اس کتاب کی اہمیت کو دوبالا کرتی ہے۔ بہار کے قدیم ترین دینی ادارے ’’مدرسہ امدادیہ دربھنگہ‘‘ نے اس کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہے۔ مدرسہ امدادیہ نے یہ مجموعہ چھاپ کر اپنے ایک نامور فرزند کو خوب صورت خراج تحسین پیش کیا ہے۔مرتب کتاب محترم محمد عارف اقبال صاحب اس کتاب کی اشاعت پر لائق صد تبریک ہیں۔ ان کی اس کوشش نے’’ امیر شریعت شناسی‘‘ کا عظیم فریضہ انجام دیا ہے۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے ۔ ہر اہل علم کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

( مضمون نگار  فضیل احمد ناصری القاسمی ، جامعہ امام محمد انور شاہ ،دیوبند میں استاذ حدیث ہیں)

ایک نظر اس پر بھی

ایودھیا معاملہ سے منسلک وہ شخصیات، جن کےکام کی وفاداری مذہب پربھاری ثابت ہوئی

سپریم کورٹ کے فیصلےکے بعد ایودھیا معاملے(مندر- مسجد تنازعہ) کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 135 سال پہلے1885 میں شروع ہوئےایودھیا تنازعہ کی قانونی لڑائی میں کچھ کردارایسے رہے ہیں، جنہیں ان کی ڈیوٹی کے فرائض کولےکرہمیشہ یاد رکھا جائےگا،

نمونیا ایک ایسا مرض، جس کا علاج موجود، پھر بھی مہلک ترین مرض؛ ایک سال میں آٹھ لاکھ بچے جاں بحق

عالمی ادارہ صحت نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق نمونیا کے مرض میں مبتلا ہو کر گزشتہ برس آٹھ لاکھ شیر خوار اور کم عمر بچے ہلاک ہوئے۔ پاکستان، نائجیریا، بھارت، جمہوریہ کانگو اور ایتھوپیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نمونیا کے باعث ہلاک ہونے بچوں کی تعداد تقریباً چار ...

شاعر مشرق علامہ اقبال کی یوم پیدائش ؛ کیا آج کا پاکستان علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے؟

پاکستان قائم ہونے کے 72 سال بعد آج بھی علمی و ادبی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال اصل میں کس طرح کا پاکستان دیکھنا چاہتے تھے۔انہیں مفکر پاکستان کہا جاتا ہے۔ ہندوستان سے تاج برطانیہ کی رخصتی اور دو آزاد مملکتوں کے قیام سے بہت پہلے علامہ اقبال ...

 دلوں کو تقسیم کرنے والی دیوارِ برلن کی یادیں اب بھی باقی ہیں 

جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی تاریخی دیوارِ برلن کو گرے 30 سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن اس کی یادیں آج بھی باقی ہیں۔دیوار کی موجودگی تک یہ ملک مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کہلاتا تھا۔ یہ دیوار 1961 میں تعمیر کی گئی تھی۔دیوار برلن جنگ عظیم دوم کے بعد تعمیر ہوئی تھی۔

بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ؛ خدا کی قسم، کوئی بھی ذی شعور مندر اور مسجد کے لئے اپنے گھر کو آگ نہیں لگائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از: سید خرم رضا

بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ پر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کا فیصلہ دس دن کے اندر آنے والا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر ہندو اور مسلمانوں کی تمام نمائندہ تنظیموں کے رہنما اپیل کر رہے ہیں کہ عوام کو خوش دلی سے عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے اسے قبول کرنا چاہیے۔ فیصلہ اگر حق میں ...

عیدالفطر: فضائل و احکام ........... آز: عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

جب بندہ تیس دن تک لگاتار روزے رکھتا ہے،روزے کےمطلوبہ تقاضے پورے کرتا ہے،قیام اللیل کے ذریعہ تقرب الہی کے ذرائع تلاش کرتاہے، خدمت خلق کے ذریعہ اپنےخالق و مالک کو راضی کرلیتا ہےاور اسی کی عبادت و فرماں برداری میں سارا وقت صرف کرتا ہےتو حق تعالیٰ  اس پیہم محنت و جدوجہد کے بعد ...

نئے سال کی آمد پر جشن یا اپنامحاسبہ ................ آز: ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

ہمیں سال کے اختتام پر، نیز وقتاً فوقتاً یہ محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہمارے نامۂ اعمال میں کتنی نیکیاں اور کتنی برائیاں لکھی گئیں ۔ کیا ہم نے امسال اپنے نامۂ اعمال میں ایسے نیک اعمال درج کرائے کہ کل قیامت کے دن ان کو دیکھ کر ہم خوش ہوں اور جو ہمارے لئے دنیا وآخرت میں نفع بخش بنیں؟ یا ...

مٹھی بھر شر پسند عناصر ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی فضا کو خراب کرنا چاہتے ہیں : مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

مرکزی جمعیت اہل حدیث( ہند) سے جاری ایک اخباری بیان کے مطابق مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے امرتسر میں نرنکاری ست سنگ ڈیرہ پر ہوئے گرینیڈ حملہ جس میں تین افراد ہلاک اور پندرہ افراد زخمی ہوئے، کی پر زور مذمت کی ہے اور اسے بزدلانہ اورغیر انسانی ...

ماہ صفر مظفر اور بد شگونی ......... بقلم: محمد حارث اکرمی ندوی

فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ( الأعراف 131) ...

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

انکولہ میں اندوہناک حادثہ؛ ہائی وے پردوڑتی لاری کو الیکٹرک وائر چھوگئی، ڈرائیور ہلاک

اگر آپ کسی بڑی سواری پر سفر کررہے ہیں تو   ہوشیار،  آپ کی سواری اوپر سے گذرتی ہوئی الیکٹرک وائر کو چھوسکتی ہے جس کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو نا یقینی ہے۔ جی ہاں، ایسا ممکن ہے کیونکہ   اتوار کو ہبلی انکولہ نیشنل ہائی وے پر اس طرح کا حادثہ پیش آچکا ہے جس میں لاری ڈرائیو کی ...

یلاپور میں کار اور ٹینکر کی بھیانک ٹکر؛ دلہا ہلاک چار دیگر شدید زخمی

یلاپور نیشنل ہائی وے 63 پر کار اور ٹینکر کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر میں کار پر سوار دُلہا کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جبکہ کار پر سوار دیگر رشتہ دار شدید زخمی ہوگئے۔ حادثہ اتوار کو ملن ہوٹل  کے قریب واقع ایک موڑ پر پیش آیا۔

رویو پٹیشن داخل کرنے اور متبادل زمین کی پیش کش کو مسترد کرنے کے مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلےکا پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے کیاخیرمقدم

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس نے بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف رویو پٹیشن داخل کرنے اور پانچ ایکڑ متبادل زمین کی پیش کش کو مسترد کرنے کے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔