عشرۂ ذی الحجہ میں عبادت کا خاص اہتمام کریں، قربانی شعائر اسلام میں سے ہے! مرکز تحفظ اسلام ہند کے آن لائن ہفت روزہ کانفرنس سے مفتی ہارون ندوی اور مولانا احمد ومیض ندوی نقشبندی کا خطاب!

Source: S.O. News Service | Published on 17th July 2021, 6:44 PM | ریاستی خبریں | اسلام |

بنگلورو، 17؍ جولائی (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء جلگاؤں کے صدر اور وائرل نیوز کے ڈائریکٹر حضرت مولانا مفتی ہارون ندوی صاحب نے فرمایا کہ قربانی اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔اسی لئے اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہے۔ بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی چلا آرہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ قربانی کا عمل ہر امت میں مقرر کیا گیا۔ البتہ اس کے طریقے اور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے۔انہی میں سے قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہﷺ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطاء فرمائی ہے جو حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے۔ اور اسی کی یادگار کے طور پر امت محمدیہ پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ عید الاضحٰی کے نماز کے بعد قربانی ادا کی جاتی ہے اور مسلمانان عالم کو قربانی کا فریضہ سر انجام دے کر اتنی خوشی نصیب ہوتی ہے کہ سارے سال میں کسی اور دن نہیں ہوتی۔ لیکن ادھر کچھ دنوں نے ہمارے ملک میں بعض فرقہ پرست لوگ یہ غلط فہمی پیدا کررہے ہیں کہ جس شخص پر قربانی واجب ہو، اس کی طرف سے قربانی کے دنوں میں جانور ذبح کرنے کے بجائے بہ قدر قربانی نقد قیمت صدقہ کرنا چاہیے یا جانوروں کی قربانی کے بہ جائے مٹی کے بکرے ذبح کرکے علاماتی طور پر قربانی انجام دینے پر اکتفا کریں۔مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ حضرات کو سمجھ لینا چاہئے کہ قربانی شعائر اسلام میں ہے اور ملک ہند کے دستور نے ہمیں ہمارے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی دی ہے اور یہ ہمارا جمہوری حق بھی ہے۔ اور علاماتی قربانی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ قربانی کرنا محض گوشت کھانے کے لیے نہیں بلکہ یہ خدا و رسول کے احکام و سنت کی اتباع ہے۔ جسکی ادائیگی سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔  اس موقع پر مفتی ہارون ندوی نے ذی الحجہ اور قربانی کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

آن لائن ہفت روزہ کانفرنس بسلسلہ عشرۂ ذی الحجہ و قربانی کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی صاحب نے فرمایا کہ قمری کیلنڈر کا آخری مہینہ ذی الحجہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ذی الحجہ کے ان دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا کسی شے کی قسم کھانا اس کی عظمت و فضیلت کی واضح دلیل ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کو سب سے اعلیٰ و افضل قرار دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ذی الحجہ کے دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو نیک عمل جتنا محبوب ہے اس کے علاوہ دیگر دنوں میں نہیں۔ مولانا نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ ”اور دنوں میں بندے کا عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب نہیں جتنا ذوالحجہ کے عشرہ میں محبوب ہے، اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھرکے روزوں کے برابر اور اس کی ہر رات کے نوافل شب قدر کے نوافل کے برابر ہیں“۔ مولانا نقشبندی نے فرمایا کہ حج جیسی عظیم عبادت بھی اسی عشرہ میں انجام دی جاتی ہے۔ اور حج کے بعد مسلمانوں کی دوسری بڑی عید، عید الاضحی بھی ماہ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو ہوتی ہے۔ نیز قربانی جیسا عظیم عمل بھی اسی مہینے میں انجام دیا جاتا ہے۔مولانا احمد ومیض ندوی نے فرمایا کہ یوں تو ذی الحجہ کا پورا مہینہ ہی قابل احترام ہے لیکن اس کے ابتدائی دس دن تو بہت ہی فضیلت اور عظمت والے ہیں، جن میں بڑی بڑی عبادتیں جمع ہوجاتی ہیں یعنی نماز، روزہ، حج اور قربانی۔ ان تمام خصوصیات کی بناہ پر ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی اہمیت اور افضلیت دو چند ہوجاتی ہے۔ یہ ایام اخروی کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے، ہمیں ان بابرکت ایام میں بڑھ چڑھ کر نیک اعمال کرنا چاہیے، بالخصوص ذکر اللہ کی کثرت، نفلی روزے، رات کا قیام، نوافل کا اہتمام، تلاوت قرآن، صدقہ و خیرات، عرفہ کا روزہ اور قربانی کا اہتمام کرنا چاہئے۔قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی ہارون ندوی صاحب اور حضرت مولانا سید احمد ندوی نقشبندی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو: وزیر اعلیٰ بومئی کو دھمکی دینے کا شاخسانہ - ہندو مہا سبھا لیڈر دھرمیندرا گرفتار

آل انڈیا ہندو مہا سبھا کے لیڈر دھرمیندرا  کی جانب سے  کل منگلورو کے ایک ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران گاندھی جی کی طرح وزیر اعلیٰ بسوا راج بومئی کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دینے کے بعد آج پولیس نے دھرمیندرا  کو گرفتار کر لیا  ہے۔

کرناٹک:مسلمانوں کو 2Bریزرویشن سے محروم کرنے کی منظم کوشش،سرکاری بھرتی کے نوٹی فکیشنوں سے 2Bزمرہ ندارد

کرناٹک میں سرکاری ملازمتوں کیلئے بھرتی اور تعلیمی اداروں میں ہونے والے داخلوں میں مسلمانوں کو 2Bزمرے کے تحت مخصوص ریزرویشن حاصل ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ریاست کی موجودہ بی جے پی حکومت اس ریزرویشن کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اسی لئے سرکاری بھرتی کیلئے جاری ہونے والے نوٹی ...

مینگلور: ہندو مہاسبھا لیڈر کی اخباری کانفرنس میں وزیر اعلیٰ بومئی کو جان سے مارنے کی دھمکی، بی جے پی پر اقلیتوں کی خوشامد کرنے کا الزام

میسور وضلع کے ننجن گڑھ میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے چند مندروں کے انہدام کے معاملہ میں ریاستی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے شدت پسند ہندوتنظیم ہندو مہاسبھا کے ریاستی جنرل سکریٹری دھرمیندرا نے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کو جان سے ماردینے کی دھمکی دی ہے۔

روہنگیاؤں کو ملک بدر کرنے واضح ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔ ریاستی اسمبلی میں 3بلوں کو منظوری،ڈاکٹروں کوقیدیوں سے بلڈ ڈی این اے سیمپل لینے کا اختیار

ریاسی وزیرداخلہ ارگیانیندر نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ابھی تک ملک کے مختلف حصوں میں آباد روہنگیاؤں کو ملک بدر کرنے کے بارے میں واضح ہدایات جاری نہیں کی ہیں۔

ریاست میں جیل جاکرآنے والے کوپہلی باروزیرداخلہ بنایاگیاہے: وزیر داخلہ ارگاگیانیندرا

سزائے قیدکاٹتے ہوئے جیل کی ہواکھانے والے اس سے پہلے کبھی وزیرداخلہ کے عہدہ تک رسائی حاصل نہیں کرسکے،میں 21سزائے جیل کاٹتے ہوئے رہائی حاصل کیاہوں،اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ میں کریمنل ہوں،کسی کریمنل کام کی وجہ سے میں جیل نہیں گیاہوں۔ایمرجنسی کے موقع پرمیں جیل گیاتھا،اس لیے سزائے ...

زکاۃ اسلام کا خوب صورت معاشی نظام ................ از: خورشید عالم داؤد قاسمی

زکاۃ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔ وہ ایک ایسا کمیاب نظام ہے، جو فقیروں کی ترقی کا ضامن اور مسکینوں کی خوش حالی کا کفیل ہے۔زکاۃ اسلام کا ایسا اہم نظام ہے کہ اس کے ذریعے سماج سے غربت کا خاتمہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے کہ اس سے امیروں اور فقیروں کے درمیان محبت ...

لیلۃ القدر؛ہزار مہینوں سے افضل رات۔۔۔۔ از: عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

    اگر دنیا کے کسی سوداگرکو یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں مہینے اورتاریخ کوہمارے قریبی شہر میں ایک میلہ لگنے والا ہے؛جس میں اتنی آمدنی ہو گی کہ ایک روپیہ کی قیمت ہزارگنا بڑھ جائے گی اور تجارت میں غیرمعمولی نفع ہوگا،تو کون احمق ہوگا جو اس زریں موقع کو ہاتھ سے جانے دے گا؟اور اس سے ...

اعتکاف؛حقیقت،حکمت اورفضیلت ۔۔۔۔ از:عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

اسلام چوں کہ دینِ فطرت ہے اس لئے وہ رہبانیت کے بھی خلاف ہے اور نری مادہ پرستی کے بھی۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اس دنیا کے مال ومتاع سے فائدہ اٹھاؤ، خواہشات کو جائز طریقے سے پورا کرو؛البتہ حد سے تجاوز مت کرو،ساتھ ہی اپنے اخلاق وروحانیت کے جذبے کو کبھی افسردہ اور مردہ نہ ہونے ...

رمضان صرف بھوکے رہنے کا نہیں، صبر اور سادگی کا بھی مہینہ ۔۔۔۔۔ از: پرگتی سکسینہ

رمضان کا پاکیزہ مہینہ آ پہنچا ہے۔ اس موقع پر مہاتما گاندھی کے ان الفاظ کو یاد کرنا واجب جان پڑتا ہے جب انھوں نے ایک قصہ سنایا تھا کہ کس طرح ایک مسلم گاؤں کے لوگوں نے رمضان کے موقع پر ان کے لیے کھانا پکایا تھا جب کہ پورے گاؤں میں چولہا نہیں جلا تھا۔