بھٹکل میں لاک ڈاؤن کا اثر : پرائیویٹ اسکول کے اساتذہ اپنا روزگار بدلنے پر مجبور ؛ ڈرائیونگ کا پیشہ اپنانے کو بھی تیار

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 16th June 2020, 8:10 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل 16؍جون (ایس اؤ نیوز) لاک ڈاؤن کے نتیجےمیں جہاں مہاجر مزدور ، یومیہ مزدور سمیت سبھی طبقات پریشانیوں میں مبتلا   ہیں وہیں  پرائیویٹ اسکولوں ،کالجوں کے اساتذہ اور لکچررس  بھی لاک ڈاون سے  بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور زندگی گزارے  کے لئے دیگر روزگار اپنانے کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ خبر یہاں تک ملی ہے کہ بعض اساتذہ ڈرائیونگ کا پیشہ اپنانے کی طرف بھی توجہ دے رہے ہیں تاکہ گھر کا میٹرچل سکے۔

کوروناوائرس کے چلتے نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکول و کالجس بند پڑے ہیں،اسکول اور کالجس کب  کھلیں گے   دوتین مہینوں کے بعد یا پھر مزید تاخیر ہوگی ، کچھ بھی صاف نہیں ہے۔ 

سننے میں آیا ہے کہ   بعض پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ اور لکچررس کو پچھلے ایک دو ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئی  ہیں ۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ چند تعلیمی اداروں نے آدھی تنخواہوں پرہی معاملہ نپٹالیا  ہے  تو  کچھ ادارےتنخواہوں میں کٹوتی کر نے پر بھی غورکررہے ہیں۔ ان حالات میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے اپنی زندگی کے  گزارے کو لےکر کافی پریشان ہیں  جس  کے نتیجےمیں وہ دیگر روزگار تلاش کرنے کی طرف سوچنے پر مجبور ہیں۔ 

حالات سے مجبور بھٹکل کے چند اساتذہ نے  کرایہ پر کار حاصل کرکے روزگار جمانے کی کوشش کی بھی اطلاع ملی ہے  تو بعض  پھل وغیرہ بیچنے پر مجبور بتائے جارہے ہیں۔ ایک استاد  نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ  میں  حلال کمائی کے ذریعے روزگار حاصل کرنے کے  لئے کار ڈرائیونگ  کررہا   ہوں تو اس میں شرم کی کیا بات ہے َ؟  کیونکہ کچھ نہ کچھ کرکےمجھے اپنا اور  بیوی بچوں کے لئے روزی روٹی کا انتظام کرنا ہے اگر میں  ایسا  ہی خاموش رہا تو  گھر کے حالات دگر گوں ہوجانے کا خدشہ ہے۔

ایک استاد نے بتایا کہ پرائیوٹ اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ  کو  پہلے ہی  کم تنخواہیں ہیں ، ہم لوگوں کوماہانہ  8-10ہزار روپئے ہی تنخواہ ملتی  ہے ، اس میں گھر کاکرایہ، بیوی بچوں کے اخراجات ، بجلی کا بل اور بچوں کی تعلیمی فیس  کہاں سے ادا کریں؟  ایسے میں اگر ہماری تنخواہوں کو روکا جاتا ہے یا تنخواہ آدھی کی جاتی ہے تو پھر ہمارے پاس  گھر کا کرایہ بھی دینے کے لئے پیسہ نہیں رہے گا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے  ہمیں اب  دوسرا روزگار  تلاش کرنا ضروری ہوگیا ہے۔  

اُدھر کہا جارہا ہے کہ جب تک اسکول اور کالجس  شروع نہیں ہونگے تب تک والدین اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کریں گے۔ اور تعلیمی اداروں کو بچوں کی فیس ادا نہیں ملے گی  تو انتظامیہ اساتذہ کی تنخواہیں کہاں سے ادا کریں گے ؟

اساتذہ اور لیکچررس  اس تعلق سے   حکومت  سے ہی مطالبہ کررہے ہیں کہ اس تعلق سے  مناسب معاوضہ کا اعلان کرتے ہوئے  تعاون کریں۔ ان لوگوں کا سوال ہے کہ اگر حکومت  آٹو ڈرائیور، تعمیراتی مزدوروغیرہ کو  معاوضہ کا اعلان کرتی ہے تو اساتذہ کے لئے کیوں نہیں ؟اگر استادوں کے ساتھ اس طرح کا  رویہ اختیار کیاجاتاہے تو پھر  ملک کا مستقبل سنوارنے والے اساتذہ کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔

اس سلسلے میں آل انڈیا ٹیچرس اسوسی ایشن کے ریاستی ذمہ دار محمد رضامانوی نے مانا کہ یہ سچ ہے کہ کئی ایک  پرائیویٹ ٹیچرس اب اپنا روزگار  تبدیل کرنے کے بارے میں سوچ رہے  ہیں۔ مسئلہ کا حل دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ  ہم   حکومت سے ہی مطالبہ کرسکتے ہیں کہ حکومت مارچ سے لے کر اسکول شروع ہونے تک ان کے بینک کھاتوں میں  تنخواہوں کو منتقل کرے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں معیاری تعلیم دینے والے تعلیمی اداروں میں ہزاروں اساتذہ بہت ہی کم تنخواہوں پر پچھلے 20-25برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں مگر   ان کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہواہے۔ حکومت کا فرمان ہونے کے باوجود تعلیمی ادارے فیس کی ادائیگی نہ  ہونے سے کم سے کم تنخواہیں دینے سے مجبور ہیں۔ اسی لئے حکومت غیر امدادی اسکولوں  کی نشاندہی کرتےہوئے ان اسکولوں کے اساتذہ کو کم سے کم تنخواہ دینے کا انتظام کرے تو استادوں کے مسائل ایک حد تک حل ہوسکتے ہیں، انہوں نے ریاست  کے  وزیر تعلیم سے  وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ اساتذہ کی تکلیفات کو محسوس کرتے ہوئے  ان کی مدد کریں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل لائن اسپورٹس ہال میں میونسپل حکام کی عوام کے ساتھ میٹنگ؛ مچھروں کی بھرمار پر قابو پانے سمیت کئی ایک مسائل پر ہوا غورو خوض

بھٹکل فاروقی اسٹریٹ پر واقع لائن اسپورٹس ہال میں منعقدہ میونسپالٹی حکام کی عوام کےساتھ ہوئی میٹنگ میں  علاقہ میں مچھروں کی بھرمار پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  مچھر مار دوائیوں کے چھڑکاو پر زور دیا گیا، اسی طرح ڈرینیج سسٹم کی درستگی سمیت دیگر کئی اہم مسائل پر بھی  غوروخوض ...

بھٹکل جنگل میں ساگوانی لکڑیاں ضبط؛ ملزم فرار

غیر قانونی طور پر ساگوانی لکڑیاں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے دوران  محکمہ جنگلات کے آفسران نے دھاوا بولتے ہوئے سواری کو ساگوانی لکڑیوں سمیت ضبط کرلیا، مگر اس دوران  ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

گنگولی میں ایک شخص نے کی خودسوزی کی کوشش ۔ ناز ک حالت میں کیا گیا اسپتال میں داخل

کنداپور تعلقہ کے گنگولی کی کھاروی کیری میں مندر کے اندر پوجا کے لئے آنے والے راگھویندرا کھاروی (35) نامی شخص نے اپنے جسم پر پٹرول  انڈیل کر خود سوزی کی کوشش کی جس کی وجہ سے وہ بری طرح جل گیا ہے اوراس کو نازک حالت میں اڈپی کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔کنداپور تعلقہ کے گنگولی ...

کاروار:سرنگ کھسکنے سےایک مہینے سے زیادہ بند پڑی کونکن ریلوے ٹریک دوبارہ کھل گئی 

کونکن ریلوے افسران کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق گوا کے پیرنیم علاقے میں سرنگ کھسکنے کی وجہ سے بند پڑی ہوئی کونکن ریلوے ٹریک کو مرمت کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور اس لائن پر ریلوے کی آمد و رفت پھر سے شروع ہوگئی ہے۔

کیرالہ سونا اسمگلنگ کیس:کیاوزیر کے ٹی جلیل کی شکل میں بھٹکل سے تارجوڑنے کی ہورہی ہے کوشش؟

شمالی کینرا کے ایک کنڑا اخبار نےآج اپنی لیڈ اسٹوری میں کیرالہ کے سونا اسمگلنگ کیس  میں وہاں کی ایل ڈی ایف حکومت کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کے ٹی جلیل کو اہم ملزم بتاتے ہوئے اس معاملے کے تار بھٹکل سے جوڑ نے کی کوشش  کی ہے۔ 

دہلی فساد معاملہ:دہلی پولیس اسمبلی کمیٹی کو ایف آئی آر دینے کو تیار نہیں

دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں سال کے شروع میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں متاثرین کو حکومت کی جانب سے معاوضہ ملنے کے سلسلہ میں آج دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی کی ایک بار پھر میٹنگ منعقد کی گئی۔

بجلی کا تار چھونے سے ہلاک ہونے والی بچی کے والدین کودیا گیا 3لاکھ روپے معاوضہ

گزشتہ سال باغ میں لگائے گئے بجلی کا تار چھونے سے ہلا ک ہونے والی 6سالہ بچی خوشی نائک کے والدین کوحکومت کی جانب سے 3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک نے لڑکی کے گھر پہنچ کرمعاوضے کی رقم بینک میں جمع کیے جانے پر ملنے والا تصدیق نامہ اس کے والدین کو سونپا۔