کورونا بحران: سعودی میں بے روزگار ہوئے 450 ہندوستانی مانگنے لگے بھیک، انتظامیہ نے بھیجا ڈٹینشن سنٹر

Source: S.O. News Service | Published on 19th September 2020, 9:27 PM | ملکی خبریں | خلیجی خبریں |

ریاض،19؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا بحران کے سبب دنیا کے تقریباً سبھی ممالک میں بے روزگاری بڑھنے لگی ہے۔ سعودی عرب میں بھی حالات بہت زیادہ بہتر نہیں ہیں۔ خصوصی طور پر سعودی عرب میں کام کرنے والے دوسرے ممالک کے شہریوں کی حالت کچھ زیادہ ہی ناگفتہ بہ نظر آ رہی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق سعودی میں برسرروزگار کئی ہندوستانی بھی کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب کے شہر جدہ میں کام نہیں ہونے کی وجہ سے سینکڑوں ہندوستانی مزدور بھیک مانگنے کے لیے مجبور ہیں۔ ایسے ہی تقریباً 450 مزدوروں کو سعودی انتظامیہ نے گرفتار کر ڈٹینشن سنٹر میں ڈال دیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ جن مزدوروں کو سعودی انتظامیہ نے ڈٹینشن سنٹر میں ڈالا ہے ان میں سے بیشتر کا ورک پرمٹ ختم ہو چکا ہے۔ ان ہندوستانی مزدوروں میں سے زیادہ تر کا تعلق تلنگانہ، آندھرا پردیش، اتر پردیش، کشمیر، بہار، راجستھان، ہریانہ، پنجاب، دہلی، کرناٹک اور مہاراشٹر ریاست سے ہے۔ ڈٹینشن سنٹر میں ڈالے گئے ہندوستانی مزدوروں کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہا ہے جس میں یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان کا واحد جرم بھوک مٹانے کے لیے بھیک مانگنا تھا جس کے بعد سعودی اہلکار انھیں کرایہ کے کمروں میں لے گئے اور پھر شناخت کر کے جدہ واقع ڈٹینشن سنٹر میں بھیج دیا گیا۔

ہندی نیوز پورٹل 'اے بی پی' پر اس تعلق سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈٹینشن سنٹر بھیجے گئے مزدوروں میں سے 39 اتر پردیش، 10 بہار، 5 تلنگانہ، 4-4 مہاراشٹر، جموں و کشمیر، کرناٹک اور 1 آندھرا پردیش سے ہے۔ یہ سبھی مزدور کافی مایوس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمت چلی جانے کے بعد پیدا حالات کے سبب انھیں بھیک مانگنی پڑی اور یہی ان کا جرم ہے۔ ہندوستانی مزدوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ "انڈونیشیا، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا وغیرہ کے افسران نے اپنے مزدوروں کی مدد کی اور انھیں یہاں سے نکال لیا، لیکن ہم اب تک پھنسے ہوئے ہیں۔"

ایک نظر اس پر بھی

دہلی تشدد: عمر خالد نے عدالت میں بیان کیا اپنا درد، کہا 'کسی سے ملنے تک نہیں دیا جا رہا'

 دہلی تشدد معاملہ میں گرفتار عمر خالد اس وقت عدالتی حراست میں ہیں۔ جمعرات کے روز انھیں دہلی ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا جہاں انھوں نے پولس پر الزام عائد کیا ہے کہ انھیں کسی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

مسجد حرام کی صفائی ستھرائی کے لیے چار ہزار مرد و خواتین خدام مقرر

الحرمین الشریفین انتظامی امور کے نگران ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عمرہ مناسک کی بحالی اور مسجد حرام میں نمازیوں کی تعداد بڑھائے جانے کے بعد حرم شریف اور بیت اللہ میں صفائی کے عملے کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اڈپی: سعودی عرب میں فیس بک اکاؤنٹ ہیاک کرکے ایک شخص کو پھنسانے کے معاملے میں  2ملزمین کے خلاف چار ج شیٹ 

سعودی عرب میں مقیم ہریش بنگیرا نامی ایک شخص کا فیس بک اکاؤنٹ ہیاک کرکے اس کے پیج پر مکہ اور کعبۃ اللہ کے تعلق سے ہتک آمیز مواد پوسٹ کرتے ہوئے سعودی پولیس کے ہاتھوں ہریش بنگیرا کی گرفتاری کا سبب بننے والے 2 بھائیوں کو اڈپی  پولیس نے گرفتار کیا ہے اور ان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ ...