کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کی فوجی یا معاشی برتری سے پہلے اس کی غذائی سلامتی میں مضمر ہوتی ہے۔ اگر خوراک محفوظ نہ ہو تو ترقی کے تمام دعوے کمزور بنیادوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں غذائی اشیاء میں کیڑے مار ادویات کی باقیات، دودھ اور مصالحہ جات میں ملاوٹ، اور پھلوں و سبزیوں میں بھاری دھاتوں کی موجودگی سے متعلق متعدد رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی، بے ترتیب بارشیں، پانی کی قلت اور صنعتی آلودگی نے زرعی نظام کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ زمین کی زرخیزی میں کمی اور آلودہ آبی ذرائع نے خوراک کی زنجیر میں ایسے عناصر شامل کر دیے ہیں جو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
اسی قومی اور ماحولیاتی پس منظر میں بنگلور کے اطراف فروخت ہونے والی سبزیوں کے بارے میں سامنے آنے والی تحقیق ایک اہم دستاویزی حیثیت رکھتی ہے۔ بعض خبریں محض اطلاع نہیں ہوتیں بلکہ اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی دستک ثابت ہوتی ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی رپورٹ، جو قومی گرین ٹریبونل کی ہدایت پر تیار کی گئی، اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ جانچے گئے 72 نمونوں میں سے 19 میں سیسے کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی، جبکہ ایک نامیاتی قرار دیے گئے بینگن میں آلودگی کی سطح طے شدہ معیار سے کئی گنا زائد تھی۔ مٹی کے 26 نمونوں میں سے 23 میں آلودہ عناصر کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ سطحی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔ مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ بعض سبزیوں میں ایسی زہریلی دوا کے آثار بھی ملے جن پر ملک میں پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
یہ اعداد و شمار محض تجربہ گاہوں کی فائلوں میں درج سطریں نہیں بلکہ شہری زندگی کے اس تضاد کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ترقی کی رفتار اور ماحولیاتی توازن ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ بنگلور، جو کبھی جھیلوں اور سرسبز فضا کا استعارہ سمجھا جاتا تھا، آج پانی کے بحران، زیر زمین ذخائر کی کمی اور بے ہنگم شہری توسیع کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں مضافاتی علاقوں کے کسان جب آبپاشی کے لیے صاف پانی سے محروم ہوتے ہیں تو غیر صاف شدہ فضلہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ انتخاب عیش کا نہیں بلکہ بقا کا تقاضا ہوتا ہے، مگر جب یہی پانی مٹی میں سرایت کر کے سبزیوں کے ریشوں تک پہنچتا ہے تو اس کا اثر شہری دسترخوان پر ظاہر ہوتا ہے۔
اس مسئلے کو محض ایک شہر تک محدود سمجھنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ ملک کے دیگر شہری مراکز میں بھی صنعتی فضلہ، نکاسی آب کے ناقص نظام اور زرعی زمینوں کی قربت کے باعث اسی نوعیت کے خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔ شہری پھیلاؤ نے زراعت اور صنعت کو ایک دوسرے کے قریب لا کھڑا کیا ہے، جہاں نگرانی اور منصوبہ بندی کی معمولی سی کوتاہی بھی وسیع سماجی اور طبی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اس تمام صورت حال میں صرف کسان کو موردِ الزام ٹھہرانا نہ منصفانہ ہے اور نہ حقیقت پسندانہ۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ نگرانی کا مربوط نظام کہاں ہے؟ کیا منڈیوں میں داخل ہونے والی سبزیوں کی باقاعدہ جانچ کا مؤثر ڈھانچہ موجود ہے جو ہر کھیپ کو معیار کی کسوٹی پر پرکھ سکے؟ اگر ممنوعہ ادویات کے آثار سامنے آ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پابندی کے نفاذ میں کمزوری ہے یا نگرانی کے نظام میں خلا موجود ہے۔ انتظامی غفلت اور منڈی کے دباؤ کے درمیان کسان سب سے کمزور حلقہ بن جاتا ہے اور صارف خاموش متاثرہ فریق۔
طبی ماہرین کے مطابق سیسہ خصوصاً بچوں کی ذہنی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، گردوں اور دل کے امراض کو بڑھا سکتا ہے، جبکہ بعض زہریلی ادویات اعصابی نظام، ہارمون کی ترتیب اور طویل المدت صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اس خطرے کی سنگینی اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے بلکہ بتدریج جسم میں جمع ہو کر صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ یوں شہری آبادی ایک ایسے خاموش بوجھ کو برداشت کر رہی ہے جس کا شمار کسی معاشی تخمینے میں شامل نہیں۔
یہ مسئلہ صرف صحت کا نہیں بلکہ اعتماد کا بھی ہے۔ جب صارف منڈی سے سبزی خریدتا ہے تو وہ ایک غیر تحریری یقین کے ساتھ خریداری کرتا ہے کہ یہ غذا اس کی زندگی کو سہارا دے گی، نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اگر یہ اعتماد مجروح ہو جائے تو اس کے اثرات معیشت، زراعت اور سماجی تعلقات تک پھیلتے ہیں۔ نامیاتی (آرگینک) یا دیسی کے عنوان سے فروخت ہونے والی اشیاء بھی اس وقت تک محفوظ قرار نہیں دی جا سکتیں جب تک مٹی اور پانی کا معیار یقینی نہ ہو۔ اس لیے مسئلے کی جڑ زمین اور پانی کے نظم و نسق میں پوشیدہ ہے۔
شہری منصوبہ بندی، صنعتی فضلہ کے مؤثر انتظام، زرعی رہنمائی اور منڈی کی سخت نگرانی کو ایک جامع حکمت عملی کے تحت مربوط کرنا ناگزیر ہے۔ فضلہ پانی کی مناسب صفائی کے بغیر اس کے زرعی استعمال کی اجازت دینا مستقبل سے بے اعتنائی کے مترادف ہے۔ کسانوں کو محفوظ متبادل ادویات، تربیت اور معاشی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مجبوری میں نقصان دہ طریقے اختیار نہ کریں۔ منڈیوں میں باقاعدہ نمونہ گیری اور نتائج کی عوامی اشاعت شفافیت اور اعتماد کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ شہریوں میں بھی آگہی کی ضرورت ہے کہ خوراک کی صفائی، موسمی پیداوار کو ترجیح اور ذمہ دارانہ خریداری کے رجحانات خطرات کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں۔
خوراک کی سلامتی کوئی وقتی مہم نہیں بلکہ مسلسل نگرانی، اصلاح اور اجتماعی عزم کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر اسے محض خبروں تک محدود رکھا گیا تو مسئلہ برقرار رہے گا۔ ترقی کو ماحولیاتی توازن کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہی پائیدار راستہ ہے، ورنہ وہی زمین جو رزق دیتی ہے، بیماری کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
معاشرہ صرف عمارتوں اور شاہراہوں سے نہیں بنتا بلکہ اس غذا سے تشکیل پاتا ہے جو اس کے جسموں اور اذہان میں داخل ہوتی ہے۔ اگر وہ غذا مشتبہ ہو جائے تو ترقی کا تصور بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ حکومت، ماہرین، کسان اور شہری سب مل کر اس مسئلے کو الزام تراشی کے بجائے اصلاح اور احتساب کے موقع کے طور پر دیکھیں۔ اگر کامل حل فوری طور پر ممکن نہ بھی ہو تو بھی اصلاح کی جستجو اور اجتماعی عزم ہی آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔
( مضمون نگار عبدالحلیم منصور کا شمار کرناٹک کے سنئیر صحافیوں میں ہوتا ہے اور مضمون نگار کے خیالات سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)