واشنگٹن ، 28/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ کے شہر سیئٹل میں فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ کے نتیجے میں۳؍افراد ہلاک اور ایک بچے سمیت۵؍ افراد زخمی ہوگئے۔ سیئٹل فائر ڈپارٹمنٹ کی ترجمان گریس نونیز کے مطابق یہ واقعہ سیئٹل کے اسپیس نیڈل کے قریب منعقدہ ’بائٹ آف سیئٹل ‘ فیسٹیول کے آخری اوقات میں پیش آیا۔فائرنگ کا واقعہ شام۶؍ بجے کے قریب پیش آیا۔ پولیس نے علاقے کی چھان بین شروع کردی ہے اور لوگوں سے شہر کے شمال مغربی حصے میں جائے وقوع سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔میلے میں پہنچنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ہم کھانے کے اسٹال سے واپس آ رہے تھے جب فائرنگ ہوئی۔زخمیوں میں ایک خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔
سیئٹل فائر ڈپارٹمنٹ کے ترجمان گریس نونیز کے مطابق فائرنگ میں ۲؍ افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ ۵؍ دیگر کو ہاربریو میڈیکل سینٹر لے جایا گیا جن میں سے ایک علاج کے دوران فوت ہوگیا۔زخمیوں میں ایک۵۶؍ سالہ خاتون کی حالت نازک ہے۔ ۲؍ سالہ بچہ، ایک۲۳؍ سالہ مرد اور ایک۳۹؍ سالہ خاتون کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ ایک۴۰؍ سالہ خاتون کو معمولی چوٹیں آئیں۔
فائرنگ کے بعد پولیس اور ایمرجنسی ٹیموں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچی اور سیئٹل سینٹر ایونٹس کیمپس کے آس پاس کے علاقے کو خالی کرنا شروع کر دیا۔ حکام نے ابھی تک فیسٹیول کے مخصوص علاقے کی نشاندہی نہیں کی ہے جہاں فائرنگ ہوئی ۔ تقریب میں آؤٹ ڈور اور اِنڈور دونوں جگہیں شامل تھیں ۔ واشنگٹن کے گورنر باب فرگوسن نے کہا کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں مسلسل اَپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ مقامی پولیس کی مدد کیلئے اسٹیٹ پیٹرول ایس ڈبلیو اے ٹی کے افسران کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔
فرگوسن نے ایک بیان میں کہا’’میرے جذبات متاثرین کے خاندانوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘فیسٹیول میں موجود فیتھ ایڈیہ ہنٹر نامی شخص نے بتایا ’’میں اور میری دوست ایک فوڈ اسٹال سےکھانا لےکر واپس آئے ہی تھے کہ فائرنگ شروع ہوگئی۔ ہمیں احساس ہوا کہ شوٹر ہمارے بالکل قریب تھا۔‘‘ اس نےمزیدکہا’’جب فائرنگ شروع ہوئی تو ہم اس کے بالکل ساتھ تھے۔ ہم بھاگے اور بھیڑ کے ساتھ عمارت کے اندر گئے۔ میں اور چند دوسرے لوگ قریبی سیئٹل چلڈرن میوزیم میں چھپ گئے۔‘‘فائرنگ کے بعد ہونے والے افراتفری میں، بہت سے کھانا فروش اپنا اسٹال چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ واقعے کے کئی گھنٹے بعد، کچھ دکاندار پولیس کی گھیرا بندی کے باہر کھڑے رہے اور انتظار کرتے رہےکہ انہیں اپنے اسٹال،کھانا اور کھانا بنانے کا سامان واپس لینے کے لیےواپس جانے کی اجازت کب دی جائے گی۔فیسٹیول کے ایک دکاندار رابرٹو رامیریز نے کہا کہ اس نے پہلی بار پٹاخے جیسی آواز سنی۔ اس کے بعد لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ گولی چلانے والا وہاں ہے اور گھبرا کر لوگ بھاگنے لگے۔واضح رہےکہ بائٹ آف سیئٹل ایک سالانہ فیسٹیول ہے جس کاآغاز ۱۹۸۲ء میں ہوا تھا۔