ڈھاکہ ، 10/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)بنگلہ دیش میں خسرہ کی ایک شدید وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، جو کئی دہائیوں میں ملک میں اس وائرل بیماری کی بدترین وباؤں میں شمار کی جا رہی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (DGHS) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک خسرہ کے مشتبہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ ۶۶؍ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ مشتبہ خسرے سے ہونے والی اموات کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے صورتِ حال کو قومی سطح کا ہائی رسک بحران قرار دیا ہے۔ ملک کے تمام ۶۴؍ اضلاع اور آٹھوں ڈویژنوں میں خسرے کی منتقلی کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ گنجان آباد شہری مراکز، خصوصاً دارالحکومت ڈھاکا کی غیر رسمی آبادیاں اور کچی بستیوں کے گنجان علاقے، وبا کے اہم مراکز بن کر ابھرے ہیں۔ کم عمر بچے اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروہ ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچے خسرے کے کل کیسز کا تقریباً ۸۰؍ فیصد ہیں، جبکہ نو ماہ سے کم عمر شیر خوار بچے، جو عموماً معمول کی ویکسینیشن کے لیے ابھی کم عمر ہوتے ہیں، مجموعی انفیکشنز کے تقریباً ایک تہائی کا حصہ ہیں۔ کمزور اور غذائی قلت کا شکار آبادیوں میں غذائی کمی کی بلند شرح نے نمونیا اور دماغی سوزش (Encephalitis) جیسی سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ مزید بڑھا دیا ہے۔
عوامی صحت کے حکام موجودہ بحران کی بنیادی وجہ آبادی میں قوتِ مدافعت کی نمایاں کمی کو قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ بنگلہ دیش میں ماضی میں ویکسینیشن کی شرح کافی بہتر رہی ہے، تاہم معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کے نظام میں شدید خلل پڑا ہے۔ کووڈ-۱۹؍ وبا کے دیرپا اثرات، ہر چار سال بعد ہونے والی منصوبہ بند بڑے پیمانے کی ویکسینیشن مہموں میں تاخیر اور ویکسین کی شدید قلت نے لاکھوں ایسے بچوں کی تعداد بڑھا دی جو خسرے کے خلاف محفوظ نہیں تھے۔ ماہرین کے مطابق خسرہ کے پھیلاؤ کو روکنے اور اجتماعی مدافعت (Herd Immunity) حاصل کرنے کے لیے عالمی معیار کے تحت ویکسین کی دو خوراکوں کی کم از کم ۹۵؍ فیصد کوریج ضروری ہے، تاہم بنگلہ دیش حالیہ برسوں میں اس ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اموات اور متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر بنگلہ دیشی حکومت نے یونیسیف (UNICEF)، عالمی ادارۂ صحت اور ویکسین اتحاد Gavi کے تعاون سے ہنگامی قومی ویکسینیشن مہم شروع کردی ہے، جس کے تحت تقریباً ایک کروڑ ۸۰؍ لاکھ بچوں کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ صحت کارکن عارضی کمیونٹی مراکز، اسکولوں اور گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین فراہم کر رہے ہیں تاکہ قوتِ مدافعت میں موجود خلا کو پُر کیا جاسکے۔ اس کے باوجود شدید متاثرہ اضلاع میں طبی مراکز پر مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث صحت کی سہولیات کی گنجائش متاثر ہونے لگی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام مسلسل والدین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی ویکسینیشن مکمل کروائیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معمول کے مطابق حفاظتی ٹیکہ کاری ہی خسرہ کے خلاف مؤثر ترین دفاع ہے۔