نئی دہلی، 6 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز مدراس ہائی کورٹ کے اُس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کا نام ریاستی حکومت کی اسکیموں میں استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے درخواست گزار، اے آئی اے ڈی ایم کے (AIADMK) کے رکن پارلیمان سی وی شنموگم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے نام پر ایسی اسکیمیں شروع کی جاتی ہیں، تو صرف ایک سیاسی جماعت اور ایک سیاسی لیڈر کو نشانہ بنانے کی درخواست گزار کی بے چینی قابلِ قبول نہیں۔
مدراس ہائی کورٹ کا یہ حکم 31 جولائی کو جاری ہوا تھا، جس میں حکومت کی فلاحی اسکیموں میں سابق وزرائے اعلیٰ یا زندہ سیاسی شخصیات کے نام استعمال کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ کسی زندہ شخصیت کا نام، سابق وزرائے اعلیٰ یا نظریاتی رہنماؤں کی تصاویر، اور کسی بھی سیاسی جماعت کے انتخابی نشان، علامت یا پرچم کا استعمال ممنوع ہوگا، بشمول حکمران جماعت دراوِڑا منیترا کڈگم (DMK)۔
مدراس ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ، چیف جسٹس منیندر موہن شریواستاوا اور جسٹس سندر موہن پر مشتمل تھی، جس نے رائے دی تھی کہ کسی زندہ سیاسی شخصیت کا نام سرکاری اسکیموں کے عنوان میں شامل کرنا قابلِ قبول نہیں۔ نیز، کسی بھی حکمران سیاسی جماعت کے نام، لوگو، نشان یا پرچم کا استعمال بھی بادی النظر میں سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایات کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔
بدھ کے روز سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا اور ہدایت دی کہ یہ رقم ریاستی حکومت کے پاس جمع کرائی جائے اور اسے کمزور طبقے کے لیے کسی فلاحی اسکیم میں استعمال کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے اس موقع پر سیاست میں عدالتوں کو گھسیٹنے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے انتخابی کمیشن کو درخواست دینے کے صرف تین دن بعد ہی ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جو کہ "قانونی عمل کا غلط استعمال" ہے۔