ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس اختتام پذیر، 105 گھنٹے کی کارروائی میں لوک سبھا نے 5 بل پیش کیے، 4 کی منظوری

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس اختتام پذیر، 105 گھنٹے کی کارروائی میں لوک سبھا نے 5 بل پیش کیے، 4 کی منظوری

Sat, 21 Dec 2024 10:03:01    S.O. News Service

نئی دہلی ، 21/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)اٹھارہویں لوک سبھا کا سرمائی اجلاس 20 دسمبر کو اختتام پذیر ہوا۔ یہ اجلاس 25 نومبر کو شروع ہوا اور اس دوران لوک سبھا میں 20 جبکہ راجیہ سبھا میں 19 اجلاس منعقد کیے گئے۔ دونوں ایوانوں میں کل ملا کر تقریباً 105 گھنٹوں تک کارروائی جاری رہی۔

دونوں ایوانوں میں ہوئے کام کا جائزہ لیا جائے تو اس سرمائی اجلاس کے دوران لوک سبھا کی پروڈکٹیویٹی 54 فیصد اور راجیہ سبھا کی پروڈکٹیویٹی 41 فیصد رہی۔ پارلیمنٹ میں مجموعی طور پر 4 بل پیش کیے گئے، حالانکہ کوئی بل ایسا نہیں تھا جو دونوں ایوانوں سے پاس ہوا ہو۔ سب سے مشہور ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ بل رہا جسے جے پی سی (جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی) میں بھیجا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے 16/17 بل لسٹیڈ تھے، لیکن 5 بل ہی لوک سبھا میں رکھے گئے، جن میں سے 4 پاس ہوئے۔

لوک سبھا میں 15 گھنٹے 43 منٹ آئین پر بحث کی گئی۔ اس میں 62 اراکین پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔ راجیہ سبھا میں آئین پر بحث 17 گھنٹے سے زیادہ ہوئی جس میں 80 اراکین پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔ جے پی سی میں اراکین کی تعداد کو لے کر بھی کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بتایا کہ جے پی سی میں پہلے 31 اراکین رکھنے پر غور ہوا تھا۔ بعد میں کئی پارٹیوں کے مطالبہ پر اسپیکر نے اس کے سائز کو بڑھایا ہے۔ جے پی سی میں اب 39 اراکین ہوں گے۔ بعد میں این ڈی اے کے 4 اور انڈیا بلاک کے 4 اراکین کو جے پی سی میں شامل کیا گیا۔

اس مرتبہ پارلیمانی اجلاس کی شروعات اڈانی معاملے پر ہنگامہ کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس دوران منی پور اور کسانوں کے اییشوز بھی اٹھائے گئے۔ آئین پر بحث کے دوران شروع ہوا تنازعہ اب تک ختم نہیں ہوا ہے۔ 19 دسمبر کو تو بات دھکا مُکی تک پہنچ گئی۔ ظاہر ہے، دونوں ایوانوں میں ہنگامہ زیادہ ہوا اور کام کم ہو سکا۔ کرن رجیجو نے کہا کہ اس اجلاس میں کام کم ہوا ہے جس سے ہم خوش نہیں ہیں۔ رکن پارلیمنٹ سوال پوچھنے کے لیے اپنی پرچی ڈالتا ہے، پوری منسٹری اس کا جواب دینے کے لیے تیاری کرتی ہے، لیکن جب ہنگامہ ہوتا ہے تو سوال ہی نہیں ہو پاتا ہے۔ پارلیمنٹ نہ چلنے سے سب سے زیادہ نقصان ملک کو ہے۔
 


Share: